resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: پہلے دی گئی طلاق کو بطورِ حکایت کے ذکر کرنے کا حکم

(64726-No)

سوال: میرے شوہر نے چند سال پہلے مجھے ایک طلاق دی تھی، جس کے بعد ہمارے درمیان صلح ہو گئی تھی، لیکن اب وہ مجھے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ’’میں تمہیں پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں۔‘‘
میں اس بارے میں آپ کی شرعی رائے جاننا چاہتی ہوں کہ کیا اس طرح طلاق واقع ہو چکی ہے یا ہم اب بھی میاں بیوی ہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں شوہر کا یہ کہنا کہ ’’میں تمہیں پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں‘‘ اگر سابقہ طلاق کی خبر دینے اور اس کا ذکر کرنے کے طور پر ہو تو محض ان الفاظ کو بار بار دہرانے سے نئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر شوہر سابقہ طلاق کے علاوہ مزید طلاقوں کا اقرار کررہا ہے تو شوہر سے اس کی وضاحت اور تمام تفصیلات معلوم کرکے سوال دوبارہ ارسال فرمائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار:(باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب الطلاق یقع بعدد قرن به لا به،293/3، ط:دار الفکر)*
"وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم."

*بدائع الصنائع:(کتاب الطلاق، فصل فی النیة فی أحد نوعی الطلاق،102/3، ط:دار الکتب العلمیة)*
"ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار."

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce