resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: انتہائی غصّہ کی حالت میں طلاق کا حکم

(65756-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک شدید جھگڑے کے دوران میرے شوہر بہت زیادہ غصے میں تھے، رو رہے تھے، چیزیں توڑ رہے تھے اور مجھے مارنے کے قریب تھے۔ انہیں غصے کے شدید دورے پڑتے ہیں، جن میں وہ چیزیں توڑ دیتے ہیں، حتیٰ کہ کسی کو جان سے مارنے تک کی بات کر سکتے ہیں اور انتہائی غصے میں گاڑی بھی بہت تیز چلانے لگتے ہیں۔
اس دوران انہوں نے ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ کے الفاظ کہے، میں نے خود انہیں یہ الفاظ دو مرتبہ کہتے ہوئے سنا، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ کہا تھا یا تین مرتبہ۔ وہ اپنے رویے پر بہت شرمندہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی نیت شادی ختم کرنے کی نہیں تھی، انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا: ’’میں تمہیں طلاق دے دوں؟‘‘ پھر کہا: ’’طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ شدید غصے کی اس حالت کا طلاق کے شرعی حکم پر کیا اثر پڑتا ہے؟ نیز طلاق کے الفاظ کی تعداد کا تعین کس طرح کیا جائے گا؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ صحیح شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے آپ کو ہم دونوں سے کن تفصیلات کی ضرورت ہوگی؟ ہم اس معاملے کو شریعت کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں اور مکمل تحقیق کے بغیر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتے۔
ہمارے درمیان درحقیقت کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے، میرے شوہر اس وقت چکن پاکس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی تکلیف سے گزر رہے ہیں اور اس کیفیت سے شدید متاثر ہیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں رکھتا، بلکہ وہ سوال میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق شرعی حکم بیان کرنے کا پابند ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص غلط بیانی سے کام لے کر اپنی مرضی کے مطابق فتویٰ حاصل کرلے تو اس کا وبال خود اسی شخص پر ہوگا، مفتی پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ جھوٹ بول کر فتویٰ حاصل کرنے سے نہ کوئی حرام چیز حلال ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حلال چیز حرام ہوتی ہے، بلکہ شرعی حکم اپنی اصل حیثیت پر برقرار رہتا ہے۔
اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا حکم یہ ہے کہ اگر طلاق دیتے وقت شوہر کی کیفیت ایسی تھی کہ وہ اپنی عقل و حواس اور زبان پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا، نہ اس کا طلاق کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی وہ طلاق کے الفاظ اور ان کے نتائج سے باخبر تھا تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اگر اس کی کیفیت اس حد تک نہیں پہنچی تھی، بلکہ شدید غصے کی حالت تھی، لیکن اسے طلاق کے الفاظ ادا کرنے اور ان کے نتائج کا شعور تھا تو ایسی صورت میں اگر اس نے دو مرتبہ ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ کہا تھا تو دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ ان دو طلاقوں کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے اور اگر عدت گزر جائے تو دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ تاہم دو طلاقوں کے بعد رجوع یا نکاح جدید کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کےلیے صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔
لیکن اگر شوہر نے تین مرتبہ ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ کہا تھا تو ایسی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی دونوں کے درمیان دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار: (244/3، ط: دار الفکر)*
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه. ملخصا ..... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

*اعلاء السنن: (180/11، ط: ادارۃ القرآن)*
والمراد الغضب الذي یحصل به الدھش وزوال العقل فإن قلیل الغضب لایخلو الطلاق عنه إلا نادراً، وقد قلنا بعدم وقوع الطلاق في مثل هذا الغضب قال الزیلعی: قال في التنقیح: وقد فسرہ أحمد أیضًا بالغضب۔ قال شیخنا : والصواب أنه یعُمّ الإکراہ والغضب والجنون وکل أمرٍا نغلق علی صاحبه عِلمه وقصدہ، مأخوذ من غلق الباب.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (38/1،ط:دار المعرفة)*
الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى.

*امداد الاحکام: (560/2،ط: دارالعلوم کراچی)*

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce