resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: طلاق رجعی کی عدت میں رجوع کرنے کے لئے صحبت شرط نہیں

(65737-No)

سوال: السلام علیکم، میں نے 2017 میں اپنی اہلیہ سے شادی کی تھی، اس وقت میری عمر 22 سال اور ان کی عمر 19 سال تھی، شادی کے تقریباً 9 سال بعد ہمارے درمیان شدید جھگڑے ہوئے اور ہم نے باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، ایک جھگڑے کے دوران میں نے ان سے کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" یہ واحد موقع تھا جب میں نے طلاق کے الفاظ کہے۔
عدت کے دوران ہم دو بار قربت کے عمل اور جنسی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، لیکن اس دوران شرمگاہ کا ملاپ (دخول) نہیں ہوا۔
میرے سوالات یہ ہیں:
کیا وہ طلاق اب بھی برقرار ہےیا اس قربت کی وجہ سے "رجوع" (تعلق بحال) ہو گیا؟
اگر عدت کے دوران شرمگاہ کا ملاپ نہ ہوا ہو، لیکن جنسی سرگرمیوں کے دوران دونوں کو الگ الگ انزال (orgasm) ہو گیا ہو تو کیا یہ خود "رجوع" تصور ہوگا یا مجھے واضح طور پر یہ کہنا پڑے گا کہ میں نے انہیں واپس اپنی زوجیت میں لے لیا ہے؟
میری اہلیہ شادی برقرار نہیں رکھنا چاہتیں اور آزادانہ طور پر رہنا چاہتی ہیں تو کیا اس بات کا حکمِ شرعی پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
ان کی عدت 15 اکتوبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے، اس تاریخ سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور اگر ہم رجوع نہیں کرتے تو عدت ختم ہونے کے بعد ہماری شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنے کے لیے میاں بیوی کا آپس میں صحبت کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ زبانی طور پر اپنی بیوی کو یہ کہنے سے کہ "میں رجوع کرتا ہوں" یا اسے شہوت کے ساتھ چھونے سے بھی رجوع ہو جاتا ہے، اس میں عورت کی نیت یا عمل کا اعتبار نہیں ہوتا۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں جب میاں بیوی کے درمیان ایک طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے دوران جنسی تعلق طے پایا تو اس سے رجوع ثابت ہوچکا ہے، اور اب وہ دونوں باہم میاں بیوی ہیں، بیوی کی ساتھ نہ رہنے کی خواہش کرنے سے شرعاً اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہے۔
باقی خاندان کے بڑے اور با اثر افراد کو چاہیے کہ دونوں زوجین کے درمیان صلح صفائی کروائیں،حتی الامکان نباہ کی کوشش کروائیں کہ کسی طرح گھر خراب نہ ہو، دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کریں۔ تاہم اگر صلح کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو بیوی اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لے کر علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدرالمختار:397/3۔398۔399، ط:سعید)*
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اه. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح".

*المبسوط للسرخسی:( 6/95، ط: دارالكتب العلمية)*
"ولو تزوجها قبل التزوج أو قبل إصابة الزوج الثاني كانت عنده بما بقي من التطليقات."

*الدرالمختار: 228/3، ط:سعید)*
'وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً ﴾ (النساء : 34) کہ أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: « أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق»۔ قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اھ."

فقط واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce