سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ چار سال قبل میری شادی ہوئی تھی، الحمدللہ میرا ایک بیٹا بھی ہے، کچھ ناچاقیوں کی وجہ سے دو سال قبل میری بیوی بچے کو لے کر اپنے میکے چلی گئی، کچھ مہینے پہلے وہ کورٹ جا کر خلع کا مطالبہ بھی کر رہی تھی جس پر میں راضی نہیں تھا اور نہ ہی کورٹ کی طرف سے کوئی علیحدگی کے دستاویزات ملے، اب سوال یہ ہے کہ آیا خلع کے اس مطالبے پر خلع ہو گئی جبکہ اس پر میری رضامندی نہیں تھی؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ چند دن سے ہماری رضامندی پر بات چیت چل رہی تھی جس پر میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ اب اور مجھ سے نہیں ہوگا، میں بیزار ہو گئی ہوں، میں پھنسی ہوئی ہوں، جس پر پھر میں نے کہا کہ اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ تم بیزار ہو پھنسی ہوئی ہو تو پھر تم آزاد ہو۔
کیا میرے ان الفاظ سے طلاق یا خلع ہوئی کہ نہیں؟ جبکہ میرا ارادہ سمجھانے کا تھا کہ واقعی اگر تم پھنسی ہوئی ہو تمہیں ایسا لگتا ہے تو پھر تم آزاد ہو۔
برائے کرم مجھے تسلی بخش جواب دیجیے کہ میرے ان الفاظوں سے طلاق یا خلع واقع ہوئی یا نہیں؟ والسلام
جواب: 1) واضح رہے کہ اگر بیوی شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر خلع لے لے، جبکہ شوہر نے زبانی یا تحریری طور پر خلع کو قبول نہ کیا ہو تو اس کو شرعاً خلع نہیں کہا جاسکتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب شوہر کی طرف سے کوئی رضامندی نہیں تھی تو ایسی صورت میں شرعاً خلع منعقد نہیں ہوا ہے۔
2) لفظ "آزاد" عرف عام میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے راجح قول کے مطابق طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب سائل نے شرط کے ساتھ اپنی بیوی کوکہا کہ "اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ تم بیزار ہو، پھنسی ہوئی ہو تو پھر تم آزاد ہو" تو اس جملہ سے شرط پائے جانے کی وجہ سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے، اس طلاق کے بعد عدت گزرنے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کا اختیار ہے، لہذا اگر سائل نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا، البتہ اگرعورت کی عدت گزر گئی تو اس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق باقی نہیں رہے گا، لیکن اگر باہمی رضامندی سے زوجین نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 229)
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ o
رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول".
بدائع الصنائع: (145/3، ط: سعید)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
الفقه الاسلامی و ادلته: (7015/9، ط: دار الفکر)
وقد اعتبر الحنفية ركن الخلع هو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول۔
رد المحتار: (299/3، ط: سعید)
"بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی