سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مجھے اپنے ازدواجی معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ براہ کرم میری مکمل صورتِ حال پڑھ کر تحریری فتویٰ عطا فرمائیں۔
میرا نکاح 18 اپریل 2024 کو ہوا تھا، یہ نکاح میں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر کیا تھا، 18 اپریل 2025 کو میرے شوہر نے مجھے اپنے پورے ہوش و حواس میں یہ الفاظ تین مرتبہ کہے: “میں تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں۔”
اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے کہا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں نہیں ہوتیں، پھر ہم دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے، میرے شوہر نے رجوع کرنے کی بات بھی کی۔
جون 2025 میں ہماری لڑائی ہوئی، میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے طلاق دو، تو انہوں نے جواب دیا: “ہماری طلاق ہو چکی ہوئی ہے، میں تمہیں کیا طلاق دوں، ہماری تو ہو گئی ہوئی ہے۔”
رمضان المبارک 2026 میں بھی ہماری لڑائی ہوئی تھی، اس دوران میرے شوہر نے سڑک پر اونچی آواز میں کہا: “میں تینوں طلاق دتی۔”
18 اپریل 2026 کو میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کے سامنے کہا: “ہماری طلاق ہو گئی ہوئی ہے، جا جس مرضی مولوی سے فتویٰ لے لے۔”
مختلف لڑائیوں میں میرے شوہر کئی مرتبہ یہ الفاظ بھی کہتے رہے: “ہماری طلاق ہو چکی ہے۔” “میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں۔” وہ بار بار کہتے تھے کہ میں تمہیں پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں اور ہماری طلاق ہو چکی ہے۔
اب میں اپنے موجودہ شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی، میرے گھر والے دسمبر 2026 میں میرا نکاح کسی دوسرے شخص سے کروانا چاہتے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر اب طلاق ہوتی ہے تو میری عدت دسمبر تک مکمل نہیں ہوگی یا پہلے کہے گئے طلاق کے الفاظ کی وجہ سے کوئی اور شرعی مسئلہ پیدا ہوگا۔
اس ضمن میں میرے سوالات یہ ہیں کہ
1) مجھے اب تک کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟
2) کیا میرا پہلا نکاح اس وقت قائم ہے یا ختم ہو چکا ہے؟
3) اگر پہلا نکاح ختم ہو چکا ہے تو کیا میری عدت مکمل ہو چکی ہے یا اب بھی عدت گزارنا ضروری ہے؟
4) کیا میں دسمبر 2026 میں کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہوں؟ اگر نہیں تو نکاح کب جائز ہوگا؟ براہ کرم تمام واقعات، الفاظ، تاریخوں اور رجوع کی تفصیل کو سامنے رکھ کر واضح فرمائیں کہ شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
سوال سے متعلق مطلوب وضاحت:
محترمہ! اس بات کی وضاحت کردیں کہ آپ اپنے شوہر سے کب سے الگ رہ رہی ہیں؟ نیز، 18 اپریل 2025ء کو آپ کے شوہر نے جو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے، اس کے بعد بھی آپ دونوں میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے رہے تھے یا آپ کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی؟ اگر اس کے بعد بھی اکٹھے رہتے رہے تو کب تک؟ اور 18 اپریل 2026ء کو آپ کے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کے سامنے جو یہ الفاظ کہے تھے کہ ’’ہماری طلاق ہو گئی ہوئی ہے‘‘، اس کے بعد آپ دونوں اکٹھے رہتے رہے یا علیحدگی ہوگئی تھی؟ اگر علیحدگی ہوئی تھی تو اس کی تاریخ بھی واضح کردیں۔ ان امور کی وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔ جزاکِ اللہ خیرا
سائلہ کی طرف سے وضاحت:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! آپ کے سوالات کے جواب میں اپنی صورتِ حال کی مزید وضاحت پیش کرتی ہوں۔
1) 18 اپریل 2025ء کو میرے شوہر نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے۔ اسی دن مجھے ماہواری شروع ہوئی تھی۔ ماہواری ختم ہونے کے بعد ہمارے درمیان میاں بیوی والا جسمانی تعلق بھی قائم ہوا اور ہم ساتھ رہتے رہے۔ میرے شوہر نے واضح طور پر یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں نے رجوع کر لیا ہے۔‘‘ اس کے بعد بھی ہم ساتھ رہتے رہے۔
2) جون 2025ء میں ہونے والی لڑائی کے دوران میرے شوہر نے کہا تھا کہ ہماری طلاق پہلے ہی ہو چکی ہے۔
3) رمضان المبارک 2026ء میں میرے شوہر نے لڑائی کے دوران سڑک پر اونچی آواز میں کہا تھا: ’’میں تینوں طلاق دتی۔‘‘
4) 18 اپریل 2026ء کو میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کے سامنے کہا تھا: ’’ہماری طلاق ہو گئی ہوئی ہے، جا جس مرضی مولوی سے فتویٰ لے لے۔‘‘ اس کے بعد بھی ہم ساتھ رہتے رہے اور اب تک ہمارے درمیان علیحدگی نہیں ہوئی۔
محترم مفتی صاحب! براہ کرم ان تمام واقعات، طلاق کے الفاظ، تاریخوں اور رجوع کی تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے میری شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کتنی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، ہمارا نکاح شرعاً قائم ہے یا ختم ہو چکا ہے، اور میرے لیے عدت اور دوسرے نکاح کے حوالے سے کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اگر واقعتاً درست ہیں تو اس کے مطابق 18 اپریل 2025ء کو جب شوہر نے آپ کو سوال میں مذکورہ الفاظ کے ذریعے تین طلاقیں دی تھیں تو اسی وقت تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی تھی، جس کے بعد آپ دونوں کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا شرعاً جائز نہیں تھا، لہٰذا اولاً آپ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور اس عرصے میں اکٹھے رہنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں۔
البتہ عدت کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر شوہر کو معلوم تھا کہ اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ بعد کے مختلف مواقع پر اس کے یہ الفاظ کہ ’’ہماری طلاق ہوچکی ہے‘‘ اور ’’میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں‘‘ بظاہر اسی بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے آپ کو اپنے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رکھا تو اس صورت میں تین طلاقوں کے بعد تین ماہواریاں گزرنے سے عدت مکمل ہوجاتی ہے اور مزید عدت گزارنا لازم نہیں ہوتا۔
لیکن اگر شوہر کو مسئلے کا علم نہیں تھا یا اس نے کسی سے غلط فتویٰ لے کر اس کے مطابق آپ کو اپنے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رکھا تو ایسی صورت میں علیحدگی کے بعد آپ پر دوبارہ عدت گزارنا لازم ہوگا، لہٰذا اس صورت میں دسمبر 2026ء میں کسی دوسرے شخص سے نکاح اسی وقت جائز ہوگا جب اس وقت تک آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہو، بصورتِ دیگر عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (518/3، ط: سعید)
(والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء، وللموطوءة بشبهة أن تقيم مع زوجها الأول وتخرج بإذنه في العدة؛ لقيام النكاح بينهما، إنما حرم الوطء حتى تلزمه نفقتها وكسوتها، بحر، يعني إذا لم تكن عالمةً راضيةً كما سيجيء ... (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا، والمرئي) من الحيض (منها، و) عليها أن (تتم) العدة (الثانية إن تمت الأولى) وكذا لو بالأشهر، أو بهما لو معتدة وفاة.
(قوله: بشبهة) متعلق بقوله: وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال: ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالماً بحرمتها لاتجب عدة أخرى؛ لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثًا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لاتستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرًا طلاقها لاتنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل. وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال، ثم وطئها في العدة عالمًا بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لايقع فيها طلاق آخر ولاتجب فيها نفقة اه وما قاله الصدر هو ظاهر.
کتاب النوازل: (142/10، ط: المرکز العلمی للنشر والتحقیق)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی