عنوان: غیر مسلم کے گھر کا کھانا کھانا(106681-No)

سوال: السلام علیکم، شیخ صاحب! جہاں پر میں جاب کرتا ہوں، وہاں پر کچھ عیسائی اسٹاف بھی ہے، جب کھانے کا ٹائم ہوتا ہے تو سب ساتھ مل کر کھاتے ہیں، جن میں ایک یا دو عیسائی لڑکے بھی ہوتے ہیں، کھانا سب اپنے اپنے گھر سے ساتھ لے کر آتے ہیں، جب کھانا لگاتے ہیں تو ساتھ میں مل کر ایک دوسرے کا بھی کھاتے ہیں۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ شریعت میں گوشت کے معاملے میں بہت احتیاط کرنے کی تاکید آئی ہے، لہذا گوشت کسی مسلمان کے ہاتھ کا ذبیحہ ہونا ضروری ہے، اگر غیر مسلم دوست گوشت یا اس سے بنا ہوا کھانا لائے، تو اسلامی مروت کے تقاضہ سے اس کو اس صورت میں کھا سکتے ہیں، جبکہ یقین سے اس کے حلال ہونے کا علم ہو اور اگر یقین سے اس گوشت کے حلال ہونے کا علم نہیں ہے، تو اسے بالکل استعمال نہیں کر سکتے ہیں،البتہ اگر کهانا گوشت کے علاوہ ہو، اور کھانا و برتن پاک ہوں اور ظاہری نجاست بھی نہ لگی ہو تو کبهی کبهار غیر مسلم کا کھانا کها سکتے ہیں، لیکن اس کو عادت نہیں بنانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی المحیط البرھانی:

أما الطاهر الذي لا كراهة فيه سؤر الآدمي وسؤر ما يؤكل لحمه سوى الدجاجة المخلاة، أما سؤر الآدمي فلما روي أن رسول الله عليه السلام «أتي بعسل من لبن فشرب بعض وناول الباقي أعرابيا كان على يمينه فشربه ثم ناول أبا بكر فشربه» ، ولأن عين الآدمي طاهرة لا كراهة فيه إلا أنه لا يؤكل لكرامته ولعابه متولد من عينه، فإذا كان عينه طاهر من غير كراهة كان سؤره طاهرا من غير كراهة أيضا، ويستوي فيه المسلم والكافر عندنا. وقال الشافعي: سؤر الكافر نجس؛ لأن عين الكافر نجس، قال الله تعالى: {إنما المشركون نجس} (التوبة: ٢٨) فإذا كان عينه نجسا كان لعابه نجسا فيكون سؤره نجسا.
وإنا نقول: عين الكافر ليس بنجس، ألا ترى أن وفد بني ثقيف أنزلوا في مسجد رسول الله عليه السلام وكانوا مشركين، ولو كان عين الكافر نجسا لما أنزلوا في المسجد.
والآية محمولة على نجاسة اعتقادهم، لا على نجاسة أعضائهم، ونجاسة الاعتقاد لا تؤثر في نجاسة الأعضاء

(ج: 1، ص: 124، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفی الھندیۃ:

قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما۔۔۔۔۔۔ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط.

(ج: 5، ص: 347، ط: دار الفکر)

والوثنی والمحرم وان ترک التسمیۃ عمدًا فالذبیحۃ میتۃ لاتؤکل وان ترکھا ناسیًا أکل ".

( مختصر القدوری : ۲۷۶، کتاب الذبائح )

وفی الاختیار لتعلیل المختار :

" والذکاۃ الاختیاریۃ وھی الذبح فی الحلق واللبۃ والاضطراریۃ وھی الجرح فی ای موضع اتفق وشرطھما التسمیۃ وکون الذابح مسلماً او کتابیًا".

(الاختیار لتعلیل المختار : ۵/ ۹ ، کتاب الذبائح )


و فی العالمکیریۃ :

" ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة".

( الفتاوی العالمکیریۃ : ٣٤٧/٥)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 567
ghair muslim kay ghar ka khana khana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.