عنوان: کیا عدت میں بیٹھی ہوئی عورت اپنی طرف سے حج بدل کروا سکتی ہے؟(106698-No)

سوال: مجھ پر حج فرض تھا اور میرا شوہر کے ساتھ حج پر جانے کا ارادہ تھا، لیکن قضائے الہی سے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا اور اب میں عدت میں بیٹھی ہوئی ہوں اور حج کا موسم آرہا ہے اور میں حج پر جانے کی استطاعت رکھتی ہوں، لیکن عدت کی وجہ سے جا نہیں سکتی، کیا میں اپنی طرف سے حجِ بدل کرواسکتی ہوں؟

جواب: زندگی میں اپنی طرف سے حج بدل کرانے کے لئے شرط ہے کہ حج بدل کرانے والے کو ایسا عذر لاحق ہو، جو موت تک جاری رہے، جبکہ عدت ایسا عذر نہیں ہے، جو موت تک جاری رہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ اپنی طرف سے حجِ بدل نہیں کرواسکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الھندیۃ:

ولجواز النيابة في الحج شرائط. (منها) : أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه وله مال ، فإن كان قادرا على الأداء بنفسه بأن كان صحيح البدن وله مال أو كان فقيرا صحيح البدن لا يجوز حج غيره عنه. (ومنها) استدامة العجز من وقت الإحجاج إلى وقت الموت هكذا في البدائع۔۔۔الخ

(ج: 1، ص: 257، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 142
kia eddat mai bethi hoi orat apni taraf say hajj e badal karwa sakti hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.