عنوان: امانت کی رقم کو قرض کے طور پر لینے کا حکم(106711-No)

سوال: میرے ایک رشتہ دار نے میرے پاس دس ہزار روپے امانت کے طور پر رکھوائے ہوئے ہیں، مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کیا میں ان دس ہزار روپوں میں سے کچھ رقم قرض کے طور پر لے سکتا ہوں؟

جواب: اگر کسی کے پاس امانت کے طور پر رقم رکھوائی گئی ہو، تو اس رقم کی حفاظت کرنا امین کے ذمہ لازم ہے، اور امین کے لئے اس رقم میں تصرف کرنا یا اس رقم میں سے قرض لینا مالک کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر مالک کی طرف سے تصرف کرنے یا قرض لینے کی اجازت ہو، تو اس صورت میں امین کے لئے امانت میں تصرف کرنے یا اسے بطورِ قرض لینے کی اجازت ہوگی۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی الشامیۃ:

لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته

(ج: 6، ص: 200، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق.

(ج: 4، ص: 338، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 297
amanat ki raqam ko qarz kat taur par lene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.