سوال:
میرا نام حمزہ احمد صدیقی ہے، میں اپنے بچے کا نام اُبی بن حمزہ ولد حمزہ احمد صدیقی رکھ سکتا ہوں یا پھر صرف نام ابی ہو اور پھر ولدیت میں حمزہ الگ سے ہو؟
جواب: "أُبَيّ" (الف پیش، باء زبر ، یاء تشدید کے ساتھ )"Uba'e " ایک جلیل القدر صحابیِ رسول ﷺ، حضرت اُبَیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کا نام مبارک ہے، اس لیے بچے کا نام "اُبَیّ" رکھنا درست ہے۔
نیز بچے کا نام 'اُبَیّ بن حمزہ ولد حمزہ احمد صدیقی' رکھنے میں والد کا نام (حمزہ) دو بار آ رہا ہے جس سے نام غیر ضروری طور پر لمبا ہورہا ہے، اس لیے 'اُبَیّ بن حمزہ احمد صدیقی' نام رکھنا کافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الاستيعاب: (1/ 107، ط: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية)
بابُ أُبَيٍّ: أُبَيُّ بنُ كعبِ بنِ قيسِ بنِ عُبَيدِ بنِ زيدِ بنِ معاويةَ بنِ عمرِو بنِ مالِك بنِ النَّجَّارِ
الاصابة فی تمييز الصحابة: (1/ 180، ط: دار الكتب العلمية)
[٣٢- أبي بن كعب [ (٧) ]]: بن قيس بن عبيد بن زيد بن معاوية بن عمرو بن مالك بن النجار الأنصاري، أبو المنذر وأبو الطفيل سيّد القراء. كان من أصحاب العقبة الثانية، وشهد بدرا والمشاهد كلها.قال له النبي صلّى اللَّه عليه وسلم: «ليهنك العلم أبا المنذر»۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی