resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ازکیہ نام رکھنے کا حکم

(67261-No)

سوال: السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ! ازکیہ نام رکھنا کیسا ہے؟ کیا یہ نام عربی زبان سے ہے؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ برائے مہربانی مکمل معلومات سے آگاہ فرمائیں۔ جزاک کم اللہ خیرا کثیرا

جواب: لفظ ’’ازکیہ‘‘ معتبر عربی لغات میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکا، البتہ اگر اس کے آخر سے حرف ’’ہ‘‘ حذف کردیا جائے تو لفظ ’’ازکیٰ‘‘ بنتا ہے، جو مادۂ ’’ز ک و‘‘ سے اسمِ تفضیل ہے۔ اس کے معنی ہیں: ’’زیادہ پاکیزہ، زیادہ نیک اور سب سے بہتر نشوونما پانے والا‘‘۔ اس میں خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کا معنی پایا جارہا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے نام رکھنے کو پسند نہیں فرمایا جن میں خودستائی کا مفہوم پایا جاتا ہو، لہٰذا اس نام کے بجائے بچوں کا نام انبیائے کرام، صحابہ اور صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کے نام پر یا کوئی اور اچھے معنی والا نام رکھا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

رد المحتار: (6/ 418، ط: دار الفکر)
«وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير الاسم القبيح إلى الحسن... ولا يسميه بما فيه تزكية نحو الرشيد والأمين فصول العلامي...ومن قوله ولا بما فيه تزكية المنع عن نحو محيي الدين وشمس الدين مع ما فيه من الكذب.

لسان العرب: (14/ 358، ط: دار صادر)
زكا: الزكاء، ممدود: النماء والريع، زكا يزكو زكاء وزكوا...
والزكاة: الصلاح. ورجل تقي زكي أي زاك من قوم أتقياء أزكياء، وقد زكا زكاء وزكوا وزكي وتزكى، وزكاه الله، وزكى نفسه تزكية: مدحها.

قاموس الوحید: (ص: 582، ط: ادارہ اسلامیات)
الزکي: بہتر نشوونما پانے والا (۲) نیک وصالح

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names