عنوان: اگر ناک کا پانی کھانے پینے کی چیزوں میں گر جائے، تو ان کے استعمال کا کیا حکم ہے؟(106745-No)

سوال: آج کل سردی کا موسم چل رہا ہے، ہر دوسرا تیسرا شخص نزلہ زکام میں مبتلا ہے، مجھے بھی نزلہ ہورہا ہے، دوپہر کے وقت میں روٹی سے سالن کھا رہا تھا کہ میری ناک سے ایک قطرہ ناک کا پانی بہہ کر سالن میں گر گیا، تو میں نے اس سالن کو پھینک دیا، تو والدہ کہنے لگیں کہ کیوں پھینک دیا، ناک کا پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ میری والدہ کی یہ بات کہاں تک درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ناک کا پانی پاک ہے، لہذا اگر وہ پانی کسی کھانے یا پینے کی چیز میں گر جائے، تو اس سے کھانے اور پینے کی چیز ناپاک نہیں ہوگی، اور اس کا استعمال کرنا درست ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص طبعی طور پر کراہت کی وجہ سے اس کھانے یا پینے کی چیز کو استعمال نہ کرے، تو اس کی گنجائش ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة

(قوله: وكذا كل ما يخرج بوجع إلخ) ظاهره يعم الأنف إذا زكم

(ج: 1، ص: 305، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

ويجوز أكل مرقة يقع فيها عرق الآدمي أو نخامته أو دمعه، وكذا الماء إذا غلب وصار مستقذرا طبعا، كذا في القنية.

(ج: 5، ص: 339، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 280
agar nak ka pani khanay pinay ki cheezon mai gir jaaye to un kay istimaal ka kia hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.