عنوان: جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ(6792-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! ایک خاتون نے گھر کے ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، جس میں کسی کے لیے کوئی نقصان کی نیت نہیں تھی اور نہ ہی کسی کو کوئی نقصان پہنچا۔
اب سوال یہ ہے کہ جھوٹی قسم کا کفارہ کیا ہے؟
جزاک اللہ

جواب: ماضی کے کسی واقعہ یا بات پر جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے، اس کا کفارہ توبہ و استغفار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایۃ: (کتاب الأیمان، 458/2، رحمانیہ)
(فَالْغَمُوسُ هُوَ الْحَلِفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ، فَهَذِهِ الْيَمِينُ يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا) لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ» (وَلَا كَفَّارَةَ فِيهَا إلَّا التَّوْبَةَ وَالِاسْتِغْفَارَ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 607
jhooti qasam khanay ka kaffara

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.