عنوان: اولیائے کرام کے مزارات پر سورہ فاتحہ پڑھنے / کسی نبی یا ولی کے وسیلے سے دعا مانگنے کا شرعی حکم(106807-No)

سوال: مفتی صاحب ! کسی نبی یا ولی کے کے وسیلے سے دعا مانگی جا سکتی ہے؟ نیز کسی ولی کے مزار پر جا کر فاتحہ خوانی کر سکتے ہیں؟

جواب: 1) اولیاء اللہ کے مزارات پر موت اور آخرت کی یاد حاصل کرنے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور بلندئی درجات کی دعا کرنے کے لیے، ان کے لیے ایصال ثواب، مثلاً: فاتحہ خوانی و تلاوت قرآن وغیرہ کے لئے جانا، نیز ان کے لیے خیرات کرنا یہ سب جائز ہے، منع نہیں ہے، ممانعت اس بات کی ہے کہ وہاں جا کر شرکیہ اعمال نہ کیے جائیں۔

2) اھلسنت والجماعت کے نزدیک انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسّل(وسیلہ) سے دعا کرنا جائز ہے، بلکہ دعا قبول ہونےمیں مؤثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔

1) عن عثمان بن حنیف، أن رجلا ضریر البصر أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ادع اللہ أن یعافیني قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فھو خیر لک․ قال: فادعہ، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوئہ ویدعو بھذا الدعاء: اللھم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبیک محمد نبي الرحمة، إني توجھت بک إلی ربي في حاجتي ھذہ لتقضی لی، اللھم فشفعہ فی : قال الترمذي: ھذا حدیث حسن صحیح غریب وزاد الحاکم في ہذہ الواقعة ”فدعا بہذا الدعاء فقام وقد أبصر
(ترمذی، رقم الحدیث: 3578)

ترجمہ: حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار عالم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص ضریرالبصر (جن کی بینائی جا چکی تھی یعنی نابینا تھے) آیا اور عرض کیا کہ اللہ پاک سے میری تکلیف دور کرنے کے لیئے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے لیےدعا کردوں اور اگر تو اس پر صبر کرنا چاہے تو تیرے لیے زیادہ بھلائی ہے۔ اس نے کہا دعا فرما دیجیے۔

پس آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ اچھی طرح وضو کرو اور دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر یہ دعا مانگو، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہ محمد نبی رحمت ﷺ کے، میں محمد آپکے وسیلہ جلیلہ سے اپنے رب کے حضور متوجہ ہوتا ہوں۔ اے اللہ پس تو آپ ﷺ کے وسیلہ سے میری حاجت مجھے نواز دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول کیجیے۔
(نابینا کھڑا ہوا اور بینا ہوگیا)

2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا ، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ

(صحیح البخاری، ابواب الاستسقاء، باب سؤال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا، رقم الحدیث978)

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب قحط ہوتا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا مانگتے اور کہتے:
اے اللہ ہم آپ کے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اور ان کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کیا کرتے تھے، پس آپ بارش برسادیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں سیراب کردیجیے، پس بارش ہوجاتی تھی۔

تاہم وسیلہ کے ساتھ دعا کرنا لازم وضروری نہیں ہے، اس کے بغیر بھی دعا کرسکتے ہیں، لہذا اس کو لازم اور ضروری سمجھنا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی سنن الترمذي :

عن سلیمان بن بریدۃ، عن أبیہ قال: قال رسول اللہ ﷺ قد کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور، فقد أذن لمحمد في زیارۃ قبر أمہ، فزوروہا؛ فإنہ تذکر الآخرۃ".

(سنن الترمذي، الجنائز، باب ماجاء في الرخصۃ في زیارۃ القبول، ط: دارالسلام، رقم: ۱۰۵۴)

(وکذا فی مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم، بیروت ۱۰/ ۲۷۱، رقم: ۴۳۷۳)

(وکذا فی المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الجنائز، باب من رخص في زیارۃ القبور، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۷/ ۳۶۷، رقم: ۱۱۹۳۱)

کذا فی الشامیۃ :

"ﻗﻮﻟﻪ:( ﻭﺑﺰﻳﺎﺭﺓ اﻟﻘﺒﻮﺭ): ﺃﻱ ﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﻬﺎ، ﺑﻞ ﺗﻨﺪﺏ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﻋﻦ اﻟﻤﺠﺘﺒﻰ، ﻓﻜﺎﻥ ﻳﻨﺒﻐﻲ اﻟﺘﺼﺮﻳﺢ ﺑﻪ ﻟﻷﻣﺮ ﺑﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﻤﺬﻛﻮﺭ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻹﻣﺪاﺩ، ﻭﺗﺰاﺭ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺃﺳﺒﻮﻉ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﻣﺨﺘﺎﺭاﺕ اﻟﻨﻮاﺯﻝ. ﻗﺎﻝ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﻟﺒﺎﺏ اﻟﻤﻨﺎﺳﻚ ﺇﻻ ﺃﻥ اﻷﻓﻀﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭاﻟﺴﺒﺖ ﻭاﻻﺛﻨﻴﻦ ﻭاﻟﺨﻤﻴﺲ۔
ﻗﻮﻟﻪ:( ﻭﻳﻘﺮﺃ ﻳﺲ): ﻟﻤﺎ ﻭﺭﺩﻣﻦ ﺩﺧﻞ اﻟﻤﻘﺎﺑﺮ ﻓﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ ﻳﺲ ﺧﻔﻒ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ ﻳﻮﻣﺌﺬ، ﻭﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﺑﻌﺪﺩ ﻣﻦ ﻓﻴﻬﺎ ﺣﺴﻨﺎﺕ» ﺑﺤﺮ. ﻭﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﻠﺒﺎﺏ ﻭﻳﻘﺮﺃ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻣﺎ ﺗﻴﺴﺮ ﻟﻪ ﻣﻦ اﻟﻔﺎﺗﺤﺔ ﻭﺃﻭﻝ اﻟﺒﻘﺮﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﻔﻠﺤﻮﻥ ﻭﺁﻳﺔ اﻟﻜﺮﺳﻲ - ﻭﺁﻣﻦ اﻟﺮﺳﻮﻝ - ﻭﺳﻮﺭﺓ ﻳﺲ ﻭﺗﺒﺎﺭﻙ اﻟﻤﻠﻚ ﻭﺳﻮﺭﺓ اﻟﺘﻜﺎﺛﺮ ﻭاﻹﺧﻼﺹ اﺛﻨﻲ ﻋﺸﺮ ﻣﺮﺓ ﺃﻭ ﺇﺣﺪﻯ ﻋﺸﺮ ﺃﻭ ﺳﺒﻌﺎ ﺃﻭ ﺛﻼﺛﺎ، ﺛﻢ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺃﻭﺻﻞ ﺛﻮاﺏ ﻣﺎ ﻗﺮﺃﻧﺎﻩ ﺇﻟﻰ ﻓﻼﻥ ﺃﻭ ﺇﻟﻴﻬﻢ. اﻩ".

(ج: 2، ص: 243، ط : ایچ- ایم سعید، کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 309
aoliya kiram kay mazarat par sora e fatiha parhne / kisi nabi ya wali kay waseelay say dua mangnay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.