عنوان: مہینوں کی تعداد، ترتیب اور خاص خاص احکام کس نے مقرر کئے ہیں؟ (106808-No)

سوال: مفتی صاحب ! سورۃ التوبہ آیت نمبر: 36 کی تفسیر بیان کیجئے، اور یہ بھی بتائیے کہ وہ چار ماہ کونسے ہیں، جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے؟

جواب: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّـٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِىْ كِتَابِ اللّـٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ مِنْـهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الـدِّيْنُ الْقَيِّـمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْـهِنَّ اَنْفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ
(سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 36)

ترجمہ:
"بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے"۔

مذکورہ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مہینوں کی تعداد، انکی ترتیب اور انکے خاص خاص احکام انسانوں کی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ جس دن آسمان و زمین کی تخلیق ہوئی اسی دن اللہ تعالیٰ نے انکی تعداد، ترتیب اور احکام مقرر فرما دیئے تھے، ان میں ردوبدل کرنا، یا اپنی طرف سے کوئی کم بیش کرنا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ( رجب، شوال، ذو القعدہ اور ذوالحجہ ) حرمت والے ہیں، یعنی یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادت کا ثواب زیادہ ملتا ہے، پہلے زمانے میں ان مہینوں میں قتل و قتال بھی منع تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال الامام فی صحیحہ البخاری:

وعن أَبي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بنِ الحارثِ ، عن النَّبيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّه السَّماواتِ والأَرْضَ: السَّنةُ اثْنَا عَشَر شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُم: ثَلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقعْدة، وَذو الْحجَّةِ، والْمُحرَّمُ، وَرجُب مُضَر الَّذِي بَيْنَ جُمادَى وَشَعْبَانَ، الحدیث۔"

(رقم الحدیث: 4662)

قال الصابونی فی تفسیرہ:

" إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا" أي إن عدد الشهور المعتد بها عند الله في شرعه و حكمه هي اثنا عشر شهرا على منازل القمر ، فالمعتبر به الشهور القمرية إذ عليها يدور فلك الأحكام الشرعية۔ "في كتاب الله" أي في اللوح المحفوظ۔ "يوم خلق السموات والأرض" قال ابن عباس : كتبه يوم خلق السموات والأرض في الكتاب الإمام الذي عند الله۔ "منها اربعة حرم" أي منها أربعة شهور محرمة هي : ذو القعدة، ذو الحجة ، والمحرم ، و رجب ، وسميت حرمة، لأنها معظمة محترمة، تتضاعف فيها الطاعات ويحرم القتال فيها "في ذلك الدين القيمه" أي ذلك الشرع المستقیم ۔

(ج: 1، ص: 397)

کذا فی معاف القرآن:

(ج:4 ، ص: 372 )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 241

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com