سوال:
ہماری گلی میں ایک شخص رہتا ہے، جو گھر میں فضول بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام کاج نہیں کرتا، اس کی بیوی سلائی وغیرہ کرکے اور لوگوں سے قرضہ لے کر اپنے بچوں کے لئے گزر بسر کرتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا میں ایسے شخص اور اس کی بیوی کو زکوۃ کی رقم دے سکتا ہوں؟
جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص اور اس کی بیوی صاحبِ نصاب نہ ہوں، فقیر ہوں، تو آپ کا ان کو زکوۃ کی رقم دینا جائز ہے، البتہ اس شخص کو کام کاج کرنے کی تنبیہ کی جائے، تاکہ وہ زکوۃ لینے کا عادی نہ ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (الباب السابع في المصارف، 187/1، ط: دار الفکر)
(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير. التصدق على الفقير العالم أفضل من التصدق على الجاهل كذا في الزاهدي. (ومنها المسكين) وهو من لا شيء له فيحتاج إلى المسألة لقوته أو ما يواري بدنه ويحل له ذلك بخلاف الأول حيث لا تحل المسألة له فإنها لا تحل لمن يملك قوت يومه بعد سترة بدنه كذا في فتح القدير.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی