عنوان: عورت کے لیے گھر میں سر ڈھانپنے کا کیا حکم ہے؟ (106852-No)

سوال: مفتی صاحب! عورت کا گھر میں سر کو ڈھکنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ عورت اپنے محرم کے سامنے جس طرح چہرہ کھول سکتی ہے، اسی طرح اپنے سر کو بھی ظاہر کرسکتی ہے، اس لیے اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ۔
(النور:31)


ترجمہ:

اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے۔

اس آیت کی روشنی میں عورت اپنے محارم کے سامنے اپنے ہاتھ، پیر، سر، بال اور گردن کھلا رکھ سکتی ہے، اس طرح عورت کا اپنے محارم کے سامنے سر نہ ڈھانپنا جائز ہے، البتہ عورت کے لئے بہتر یہی ہے کہ عورت محارم کے سامنے بھی سر ڈھانپ کر رکھے، لیکن اگر فتنے کا خوف ہو تو ان اعضاء کا ڈھانپنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الشامیة:

وفي غريب الرواية يرخص للمرأة كشف الرأس في منزلها وحدها فأولى لها لبس خمار رقيق يصف ما تحته عند محارمها اه.

(ج:١،ص:٤٠٤،ط: دارالفكر)

كذا فى الهندية:

(ج:٥،ص:٣٨٦،ط: دارالفكر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 589
aourat kay liye ghar mai sar dhanpnay ka kia hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.