عنوان: ملازمت کی تلاش میں بار بار ناکامی ہوتی ہو، تو کیا کرنا چاہیے؟ نیز عورت کا ملازمت اختیار کرنے کا حکم(106861-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میں بہت پریشان ہوں، میں جہاں جاب کے لئے جاتی ہوں، وہاں Demo صحیح ہوتا ہے، مگر پھر وہاں سے کال نہیں آتی۔ میں نے الحمدللہ ! ماسٹر اسلامیات کیا ہوا ہے اور 2 سال The smart میں پڑھایا بھی ہے اور مونٹیسوری کورس کیا ہوا ہے، مگر پھر بھی مجھے جاب کا مسئلہ بہت ہو رہا ہے، آپ براہ مہربانی کچھ پڑھنے کے لئے دیں، مجھے جاب کی بہت سخت ضرورت ہے۔

جواب: (1) حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کسی بندے کو کوئی تکلیف، پریشانی یا غم لاحق ہو اور وہ یہ پڑھے:

"اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمتك، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي...".

(مسند أحمد: 6/ 246)

ترجمہ:
یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، اور تیرے بندے اور بندیی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میری ذات پر تیرا ہی حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق تیرا فیصلہ سراپا عدل و انصاف ہے، میں تجھے تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو تو نے اپنے لیے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا کہ تو قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غموں کیلئے باعث کشادگی اور پریشانیوں کیلئے دوری کا ذریعہ بنا دے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص بھی کسی پریشانی میں مبتلا ہو اور وہ یہ دعا پڑھے، تو اللہ تعالی اسکے سب دکھڑے اور غم مٹا دیتا ہے، اس غم کے بدلے خوشی عطا فرماتا ہے اور اسکی مشکل کشائی فرماتا ہے۔

اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ کثرتِ استغفار سے بھی اللہ پریشانیوں کو دور فرما دیتا ہے۔

(2) واضح رہے کہ عورت کو الله رب العزت نے گھر کی زینت، امورِ خانہ داری کی اصلاح، والدین اور شوہر کی خدمت، اولاد کی صحیح پرورش اور دینی تربیت کے لیے پیدا کیا ہے، یہی اس کی پیدائش کا اصل مقصد ہے۔
شریعت مطھرہ نے عورت پر کسب معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے، بلکہ مردوں کو کسب معاش کا مکلف بنایا ہے، لہذا شادی تک لڑکیوں کا نان ونفقہ والد کے ذمے اور شادی کے بعد شوہر پر واجب ہے، اس لیے کسی عورت کو اگر معاشی تنگی کا سامنا نہیں ہو، تو محض معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل کر ملازمت کے لیے پیش قدمی کرنا شریعت کی نظر میں نا پسندیدہ ہے، خاص طور پر کہ شوہر کی اجازت بھی نہ ہو، لیکن اگر عورت کو معاشی تنگی کا سامنا ہو اور والد، بھائی یا شوہر اس کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہو، تو ایسی مجبوری اور ضرورت کے وقت درج ذیل شرائط کے ساتھ ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی گنجائش ہوگی:

1) ملازمت کا کام فی نفسہ جائز کام ہو، ایسا کام نہ ہو، جو شرعاً ناجائز یا گناہ ہو۔
2)شرعی پردہ کی مکمل رعایت ہو۔
3)لباس پرکشش اور ایسا نہ ہو، جس سے جسم کا کوئی حصہ نمایاں ہوتا ہو۔
4) عورت بناؤ سنگار اور زیب وزینت کے ساتھ، نیز خوشبو لگاکرنہ نکلے۔
5) ملازمت کرنے کی وجہ سے گھریلو امور میں لاپروائی نہ ہو، جس سے شوہر اور بچوں کے حقوق ضائع ہوں۔
اگر مذکورہ تمام شرائط ملازمت کرنے کی جگہ میں پائی جائیں، تو وہاں کام کرنے کی گنجائش ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما جاء فی القرآن الکریم:

(الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلٰی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ).
(سورۃ النساء: آیت: 34)

(وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى).
(الأحزاب، آیت: 33)

(وإذا سألتموهن متاعاً فاسألوهن من وراء حجاب ذلكم أطهر لقلوبكم وقلوبهن).
(الأحزاب، آیت:53)

لما في مسند أحمد:

3712 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمتك، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَحًا "، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَعَلَّمُهَا؟ فَقَالَ: «بَلَى، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا».

(مسند أحمد: 6/ 246)

ولما فی سنن ابی داؤد:

وعنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضِي اللَّه عنْهُما قَال: قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: منْ لَزِم الاسْتِغْفَار، جَعَلَ اللَّه لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مخْرجًا، ومنْ كُلِّ هَمٍّ فَرجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حيْثُ لاَ يَحْتَسب".

سنن أبی داود: ٢/ ٨٥ (١٥١٨)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 337
mulazamt ki talash mai bar bar nakaami hoti ho to kia karna chahiye neez aourat ka mulazmat akhtiyar karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.