عنوان: کیا حاجی شخص دوسرے ممالک کے کیمپ سے بلا اجازت اپنا علاج کرواسکتا ہے؟(106897-No)

سوال: حج کے موقع پر ہر ملک والے اپنے حاجیوں کے لئے کیمپ لگاتے ہیں، جہاں سے دوا وغیرہ ملتی ہے اور علاج ہوتا ہے اور حكومت كی طرف سے اپنے کیمپ میں جانے کی اجازت ہوتی ہے اور دوسرے ممالک كے كيمپ ميں جانے پر پابندی ہوتی ہے، اگر کوئی حاجی دوسرے ممالک کے کیمپ میں اپنا علاج کروانے کے لئے بلا اجازت چلا جائے، تو کیا اس کے لئے علاج کروانا درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ حاجی کے لئے دوسرے ممالک کے دوا خانہ سے حکومت کی اجازت کے بغیر، دھوکہ سے اپنا علاج کروانا درست نہیں ہے، کیونکہ مباح کام میں حکومت کی اطاعت کرنا واجب ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ "کسی مسلمان کا مال اس کے طیبِ نفس کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی السنن الکبرٰی للبیھقی:

عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال رجل مسلم لأخيه إلا ما أعطاه بطيب نفسه "

(ج: 8، ص: 316، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفی الشامیۃ:

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ

(ج: 2، ص: 172، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

وفي شرح الجواهر: تجب إطاعته فيما أباحه الشرع، وهو ما يعود نفعه على العامة۔۔۔الخ

(ج: 6، ص: 460، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 162
kia haaji shakhs doosray mumalik kay camp say bila ijazat apna elaaj karwa sakta hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.