عنوان: کیا حرم میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے؟(106903-No)

سوال: مفتی صاحب ! بعض عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنے وطن میں ہوتی ہیں، تو پردہ کا بڑا اہتمام کرتی ہیں، لیکن جب حج یا عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ جاتی ہیں، تو وہاں پردہ کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور حرم میں پردہ نہیں کرتی ہیں اور اگر ان سے کہا جائے کہ پردہ کرو، تو جواب میں کہتی ہیں کہ ہم اللہ کے گھر میں ہیں، کس سے پردہ کریں، یہاں پردہ کی ضرورت نہیں ہے، مجھے یہ بتادیں کہ ان کہ مذکورہ بات کہاں تک درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اسلام میں عورتوں کو نامحرم سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم عام ہے اور کسی جگہ یا زمانہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ احرام کی حالت میں بھی عورتوں کو سر کھولنے کی شرعا اجازت نہیں ہے، البتہ وہ عورتیں چہرے کو کپڑے سے اس طرح چھپائیں گی کہ کپڑا چہرے پر نہ لگے اور عورتوں کو تو مسجدِ حرام میں پردہ کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ وہ اللہ کا گھر ہے، اور شریعت نے تو فتنہ کے خوف سے عورتوں پر با آواز بلند تلبیہ پڑھنے پر بھی پابندی لگائی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکوره عورتوں کی یہ بات کہ " ہم اللہ کے گھر میں ہیں، یہاں پردہ کی ضرورت نہیں ہے " درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن الکریم:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾

(سورۃ الاحزاب، آیت: 59)

وفی سنن ابی داود:

عن مجاهد، عن عائشة، قالت: «كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه»

(ج: 2، ص: 167، ط: المکتبۃ العصریۃ)

وفی الشامیۃ:

(ولا تلبي جهرا) بل تسمع نفسها دفعا للفتنة؛ وما قيل إن صوتها عورة ضعيف۔۔الخ

(ج: 2، ص: 528، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 250
kia haram mai aourton ko parda karne ka hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com