عنوان: نابالغ بچہ حج کرے، تو فرض حج ادا ہوگا یا نفلی؟(106959-No)

سوال: آج کل لوگ جب حج پر جاتے ہیں، تو اپنے نابالغ بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور انہیں بھی اپنے ساتھ حج کرواتے ہیں، آپ مجھے یہ رہنمائی فرمادیں کہ حج کرنے والے بچوں کا حج، فرض حج ادا ہوگا یا نفلی حج ادا ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ نابالغ بچے اگر حج کریں، تو ان کا نفلی حج ادا ہوتا ہے، لہذا اگر بالغ ہونے کے بعد انہیں حج پر جانے کی استطاعت ہوجائے، تو اس صورت میں انہیں فرض حج ادا کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما الشامیۃ:

(فلو أحرم صبي عاقل أو أحرم عنه أبوه صار محرما)۔۔۔۔(فبلغ أو عبد فعتق) قبل الوقوف (فمضى) كل على إحرامه (لم يسقط فرضهما) لانعقاده نفلا۔۔الخ

(ج: 2، ص: 466، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

(ومنها البلوغ) فلا يجب على الصبي كذا في فتاوى قاضي خان ولو أن الصبي حج إذا قبل البلوغ فلا يكون ذلك عن حجة الإسلام ويكون تطوعا

(ج: 1، ص: 217، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 239
nabaaligh bacha hajj karay to farz hajj ada hog aya nafli?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.