عنوان: ملازمت کے اوقات میں ذاتی کام کرنا(107009-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر ملازمین اپنی ڈیوٹی کے دوران ذاتی کاموں میں وقت ضاٸع کریں تو ان کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اگر ملازم وقت کی بنیاد پر کام کرتا ہے تو شرعاً اسے "اجیر خاص" کہا جاتا ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ وہ کمپنی کی طرف سے وقت مقررہ پر اپنے آپ کو حاضر کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور اس دوران مالک کی اجازت کے بغیر اپنا کوئی ذاتی کام کرنا خیانت اور ناجائز ہے، البتہ اگر کمپنی کے مالک کی اجازت سے اپنے ذاتی کام میں مشغول ہو، تو اس کی اجازت ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

کذا فی الشامیۃ

(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولايشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لايؤدي نفلاً، وعليه الفتوى".

(6/70، کتاب الإجارة، ط: سعید)


کذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ

ویجب علی الأجیر الخاص أن یقوم بالعمل في الوقت المحدد لہ أو المتعارف علیہ۔ ولا یمنع ہٰذا من أدائہ المفروض علیہ من صلاۃ وصوم، بدون إذن المستأجر۔ وقیل إن لہ أن یؤدي السنّۃ أیضًا، وأنہ لا یمنع من صلاۃ الجمعۃ والعیدین، دون أن ینقص المستأجر من أجرہ شیئًا إن کان المسجد قریبًا۔

(الموسوعۃ الفقہیۃ / المطلب الأول الأجیر الخاص ج1 ص289 رقم المسئلۃ: 106 )

وفیہ ایضاً

ولیس للأجیر الخاص أن یعمل لغیر مستأجرہ إلا بإذنہ، وإلا نقص من أجرہ بقدر ما عمل۔ ولو عمل لغیرہ مجانًا أسقط رب العمل من أجرہ بقدر قیمۃ ما عمل۔

(الموسوعۃ الفقہیۃ / المطلب الأول الأجیر الخاص ج:1ص:290)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 275
mulazamat kay oqaat mai zaati kaam karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.