resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امیر شخص کے بالغ لڑکے کو زکوۃ دینے کا شرعی حکم(7012-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا کوئی شخص اپنے چچا زاد بھائی کو زکوۃ دے سکتا ہے، حالانکہ اس کا چچا مستحق زکوۃ نہی ہے، اور اس کا چچا زاد بھائی اسٹوڈنٹ ہے، ظاہری بات ہے کہ اسٹوڈنٹ کے پاس صرف جیب کا خرچہ ہوتاہے، جو اس کو اس کا والد دیتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ بالغ اولاد اور باپ کی ملکیت الگ الگ شمار ہوتی ہے، اس لیے باپ کے صاحب نصاب ہونے سے بالغ بچے صاحب نصاب نہیں ہوں گے ، لہذا کسی مال دار صاحب نصاب شخص کے مجبور غریب بالغ لڑکے کو زکوة دینا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (باب المصرف، 249/2، ط: سعید)
(و) ا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته
الفقراء وطفل الغنية، فيجوز لانتفاء المانع.
قوله: (ولا إلى طفله) أي: الغنى فيصرف إلى البالغ ولوذکر ا صحيحا، قهستانی، فأفاد أن المراد بالطفل
غير البالغ، ذكراكان أو أنثى في عيال.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

ameer shakhs kay baaligh ko zakat dene ka shar'ee hukum, Shariah order / ruling to give zakat to the adult son of a rich person

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat