عنوان: بیک وقت دو کام کرنا (107042-No)

سوال: حضرت ! کیا ایک وقت میں دو نیک کام کر سکتے ہیں، مثلاً: جیسے تلاوت یا بیان سنتے ہوئے تسبیح پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: کسی شخص کے لئے بیک وقت دوکام مکمل دھیان اور توجہ کے ساتھ کرنا مشکل ہے ،کیونکہ جب تک کسی بھی کام کو مکمل توجہ، دھیان اور یکسوئی کے ساتھ نہ کیاجائے ، اس وقت وہ کام صحیح طریقے پر نہیں ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تلاوت کے دوران اگر اذان شروع ہوجائے تو مستحب یہ ہے کہ تلاوت بند کرکےاذان کا جواب دیا جائے،تاکہ مکمل توجہ سے اذان سنی جاسکے ، اسی طرح اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ
ترجمہ:اس میں سوچنے کی جگہ ہے اس کو جس کے اندر دل ہے یا لگائے کان دل لگا کر۔

آیت مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کا فائدہ دو شخصوں کو پہنچتا ہے ، ایک وہ جو خود عقل رکھتا ہے ، اپنی عقل سے ان سب مضامین کی تصدیق کرتا ہے ، یا پھر وہ آدمی جو آیات الٰہیہ کو کان لگا کر سنے اور اس طرح سنے کہ وہ خود حاضر بھی ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ کان تو سن رہے ہیں دل حاضر نہیں ہے۔

اس ساری تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بیان کے دوران ،بیان سے مکمل طور پر مستفید ہونے کےلئے ضروری ہے کہ مکمل توجہ سے سنا جائےاور تلاوت ،ذکر وغیرہ مؤخر کر دیا جائے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما فی الھندیة:

ولا ينبغي أن يتكلم السامع في خلال الأذان والإقامة ولا يشتغل بقراءة القرآن ولا بشيء من الأعمال سوى الإجابة، ولو كان في القراءة ينبغي أن يقطع ويشتغل بالاستماع والإجابة.

(ج:١٫ ص: ٥٧ ٫ط : دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 212
bayak waqt do kaam karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.