عنوان: کیا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ ہے؟(7064-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو بیس سال ہوگئے ہیں، مالی پریشانیوں کی وجہ سے گھر میں ٹیوشنز دیتی ہوں، جو بھی آمدنی ہوتی ہے، وہ گھر میں اور بچوں کی تعلیمی ضروریات پہ خرچ ہوجاتے ہیں، کیا یہ میرا صدقہ شمار ہوگا؟ کیونکہ میں اللہ کی راہ میں بہت زیادہ صدقہ کرنے والی بننا چاہتی ہوں۔
جزاک اللہ خیرا

جواب: احادیث مبارکہ میں اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «دينار أنفقته في سبيل الله ودينار أنفقته في رقبة، ودينار تصدقت به على مسكين، ودينار أنفقته على أهلك، أعظمها أجرا الذي أنفقته على أهلك»
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۹۹۵،ج:۲، ص:۶۹۱،ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ دینار جس کو تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جس کو تم غلام پر خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جو تم نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جو تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ، ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے٫ جو تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو۔
مسلم شریف کی ایک روایت میں اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کو صدقہ فرمایا ہے۔
عن أبي مسعود البدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «إن المسلم إذا أنفق على أهله نفقة، وهو يحتسبها، كانت له صدقة»
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۱۰۰۲،ج:۲، ص:۶۹۵،ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:
حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔
واضح رہے کہ اس قسم کی احادیث مبارکہ ، جن میں ایک عمل پر دوسرے عمل کے ثواب کا ذکر ہوتا ہے، کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوسرا عمل ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے ،مثلا ً والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے سے حج و عمرہ کا ثواب ملتا ہے، تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اگر کسی پر حج فرض ہو ،وہ والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا ، بلکہ حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ثواب حج سے ملتا ہے، اسی طرح والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے سے بھی ثواب ملے گا، لہذ ا اولاد پر خرچ کرنے سے صدقہ کا ثواب ملتا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ حسب حیثیت نفلی صدقہ بھی کرتے رہنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوی: (81/1، ط: مكتبة الإمام الشافعی)
(إذا أنفق الرجل) في رواية بدله المسلم (على أهله) أي زوجته وأقاربه أو زوجته وهم ملحقون بها بالأولى (نفقة) حذف المقدار لإفادة التعميم (وهو يحتسبها) أي والحال أنه يقصد بها الاحتساب وهو طلب الثواب (كانت له صدقة) أي يثاب عليها كما يثاب على الصدقة والتشبيه في أصل المقدار لا في الكمية والكيفية وإطلاق الصدقة على الثواب مجازا أما الغافل عن نية التقرب فلا ثواب له:

کذا فی فتاوی بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144102200030

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 845 Mar 15, 2021
kia ehl o ayaal par kharch karna sadqa hai?, Is it considered as charity to spend on our own family?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.