عنوان: بینک ملازم کے گھر کھانا کھانے اور بینک ملازم کے بیٹے سے رشتہ کرنے کا حکم(107076-No)

سوال: مفتی صاحب ! بہت سارے لوگ ہم سے ملنے یا ہمارے گھر کھانے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ میرے والد کی آمدنی حرام ہے۔ میرے والد نجی بینک میں آپریشنل منیجر ہیں اور میری شادی بھی اسی وجہ سے زیر التوا ہے، کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری پرورش حرام رقم سے کی گئی ہے۔ اس بارے میں آپ میری رہنمائی فرمائیں.

جواب: واضح رہے کہ جو شخص سودی بینک میں براہ راست سودی لین دین کے معاملات کے شعبے میں کام کرتا ہے، اس ملازمت کے علاوہ اس کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے٬ تو ان کے ہاں کھانا پینا درست نہیں ہے، لیکن اگر اس کا کوئی اور جائز ذریعہ آمدن بھی ہو٬ اور وہ اپنی جائز کمائی سے مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلائے٬ تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

جہاں تک بینک ملازم کے بیٹے کے ساتھ رشتہ کرنے کا تعلق ہے٬ تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ بینک ملازم کے بیٹے سے نکاح کرنا جائز ہے، لیکن اگر لڑکے کے والد کی آمدنی کا اکثر حصہ سودی بینک کے سودی معاملات میں مصروف عمل ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، تو ان کے ہاں سے کھانے پینے اور ہدیہ وتحائف لینے سے اجتناب کرنا ہوگا۔
ہاں! اگر ان کی آمدنی کا اکثر حصہ سودی بینک کی ملازمت کا نہیں ہے، بلکہ کوئی اور جائز ذریعہ آمدن بھی ہے، تو پھر ان کے ہاں کھانے پینے اور ان سے تحائف لینے کی اجازت ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفی الصحیح لمسلم:

"عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء"

(الصحیح لمسلم: ۲؍۷۲ ، رقم الحدیث: ۱۵۹۸، وکذا فی سنن الترمذي ۱؍۲۲۹، رقم الحدیث: ۱۲۰۶)

لما فی الفتاوى الهندية:

"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم"

(الفتاوی الھندیۃ: ٥/ ٣٤٢)

وفی الدرالمختار مع الرد:

"(قولہ الحرام ینتقل) ای تنتقل حرمتہ وان تداولتہ الایدی وتبدلت الاملاک، قولہ: ولا للمشتری منہ فیکون بشرائہ منہ مسیئا لانہ ملکہ بکسب خبیث وفی شرائہ تقریر للخبث ویؤمر بما کان یؤمر بہ البائع من ردہ علی الحربی"

( ۴:۱۴۵ مطلب البیع الفاسد لا یطیب لہ ویطیب للمشتری منہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 248
bank mulazim kay ghar khana khatay or bank mulazim kay bete say rishta karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.