عنوان: غصہ، تکبر اور تلخ مزاجی دور کرنے کے لیے دعا (107130-No)

سوال: مفتی صاحب! غصہ، غرور اور تلخ مزاجی کو دور کرنے کی کوئی دعا ہو تو بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ غصہ کے وقت احادیث مبارکہ میں ’’اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ پڑھنا سکھایا گیا ہے، کیونکہ غصہ شیطانی اثرات میں سے ہے، اور اعوذ باللہ پڑھنے سے انسان اللّٰہ جل شانہ کی پناہ میں آجاتا ہے، جس سے انسان کا غصہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔

نیز غصہ کے وقت قرآن کریم کی آیت ’’ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ "(سورہ آل عمران : 134) بھی پڑھتے رہناچاہیے۔

تکبر دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل دعا پڑھیں :

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ صَبُوْرًا وَّاجْعَلْنیْ شَکُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ فِیْ عَیْنِیْ صَغِیْرًا وَّفِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ کَبِیْرًا۔ (مجمع الزوائد)

ترجمہ :
اے اللہ! مجھے صبر کرنے والا بنا اور مجھے شکر کرنے والا بنا اور مجھے میری آنکھ میں چھوٹا بنا ( یعنی تواضع والا بنا اور تکبر سے بچا) اور لوگوں کی آنکھوں میں بڑا بنا۔

تلخ مزاجی دور کرنے کے لیے یہ دعا پڑھیں :

اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِن منْكَرَاتِ الأَخلاقِ، والأعْمَالِ والأَهْواءِ۔

ترجمہ :
اے اللہ! میں برے اخلاق ، برے اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی سنن الترمذی :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺑﻦ ﻏﻴﻼﻥ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻗﺒﻴﺼﺔ، ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﻋﻤﻴﺮ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻟﻴﻠﻰ، ﻋﻦ ﻣﻌﺎﺫ ﺑﻦ ﺟﺒﻞ ﻗﺎﻝ: اﺳﺘﺐ ﺭﺟﻼﻥ ﻋﻨﺪ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺣﺘﻰ ﻋﺮﻑ اﻟﻐﻀﺐ ﻓﻲ ﻭﺟﻪ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ، ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺇﻧﻲ ﻷﻋﻠﻢ ﻛﻠﻤﺔ ﻟﻮ ﻗﺎﻟﻬﺎ ﻟﺬﻫﺐ ﻏﻀﺒﻪ: ﺃﻋﻮﺫ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ اﻟﺮﺟﻴﻢ.
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺑﻨﺪاﺭ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻧﺤﻮﻩ

(باب ما یقول عند الغضب، رقم الحدیث : 3452، ط : دارالغرب الاسلامی)

کذا فی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد :

ﻭﻋﻦ ﺑﺮﻳﺪﺓ: ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ  ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ  ﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻝ:  «اﻟﻠﻬﻢ اﺟﻌﻠﻨﻲ ﺷﻜﻮﺭا، ﻭاﺟﻌﻠﻨﻲ ﺻﺒﻮﺭا، ﻭاﺟﻌﻠﻨﻲ ﻓﻲ ﻋﻴﻨﻲ ﺻﻐﻴﺮا، ﻭﻓﻲ ﺃﻋﻴﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﻛﺒﻴﺮا» ".
ﺭﻭاﻩ اﻟﺒﺰاﺭ، ﻭﻓﻴﻪ ﻋﻘﺒﺔ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻷﺻﻢ، ﻭﻫﻮ ﺿﻌﻴﻒ، ﻭﺣﺴﻦ اﻟﺒﺰاﺭ ﺣﺪﻳﺜﻪ۔

(باب الاجتھاد فی الدعاء، رقم الحدیث : 17412، ط : مکتبہ القدسی)

کذا فی سنن الترمذی :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﻭﻛﻴﻊ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ، ﻭﺃﺑﻮ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻋﻦ ﻣﺴﻌﺮ، ﻋﻦ ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻼﻗﺔ، ﻋﻦ ﻋﻤﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﻣﻦ ﻣﻨﻜﺮاﺕ اﻷﺧﻼﻕ، ﻭاﻷﻋﻤﺎﻝ ﻭاﻷﻫﻮاء.
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﻏﺮﻳﺐ ﻭﻋﻢ ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻼﻗﺔ ﻫﻮ: ﻗﻄﺒﺔ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ.

(باب دعاء ام سلمة، رقم الحدیث : 3591، ط : دارالغرب الاسلامی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 721
gussa,takabbur or talkh mizaji dour karne kay liye dua

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.