عنوان: اسلامک پوسٹ شیئر کرنے کے لیے اس کے نیچے کوئی ترغیبی جملہ لکھنے کا شرعی حکم(107147-No)

سوال: مفتی صاحب ! قرآن یا اسلامک کوئی بات سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد کیپشن میں یہ لکھنا کہ اچھے مسلمان ہو، تو اس کو لائک اور شیئر کرو، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب: واضح رہے کہ سب سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی آیت یا حدیث مبارکہ کی پوسٹ تیار کرکے سوشل میڈیا پر چلانا ایک حساس معاملہ ہے، لہذا جب تک کسی مستند عالم دین کی تائید حاصل نہ ہو، تب تک ایسی پوسٹ سوشل میڈیا پر چلانے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

البتہ اگر کوئی اسلامی پوسٹ کسی مستند عالم دین کی تائید کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی جائے تو تعلیم و تبلیغ کی نیت سے اس کے نیچے کوئی مناسب ترغیبی جملہ لکھنا جائز ہے، لیکن ایسی پوسٹ نہ تو کسی مسلمان پر آگے شیئر کرنا لازم ہے اور نہ ہی شیئر نہ کرنے والا گناہ گار ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی صحیح البخاری :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻮﺳﻰ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺼﻴﻦ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﺗﺴﻤﻮا ﺑﺎﺳﻤﻲ ﻭﻻ ﺗﻜﺘﻨﻮا ﺑﻜﻨﻴﺘﻲ، ﻭﻣﻦ ﺭﺁﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﻨﺎﻡ ﻓﻘﺪ ﺭﺁﻧﻲ، ﻓﺈﻥ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻻ ﻳﺘﻤﺜﻞ ﻓﻲ ﺻﻮﺭﺗﻲ، ﻭﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻲ ﻣﺘﻌﻤﺪا ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ۔
(رقم الحدیث : 110، ط : دار طوق النجاۃ)

کذا فی سنن الترمذی :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ اﻟﻜﻮﻓﻲ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ، ﻋﻦ ﺷﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺗﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺟﻞ ﻳﺴﺘﺤﻤﻠﻪ، ﻓﻠﻢ ﻳﺠﺪ ﻋﻨﺪﻩ ﻣﺎ ﻳﺤﻤﻠﻪ ﻓﺪﻟﻪ ﻋﻠﻰ ﺁﺧﺮ ﻓﺤﻤﻠﻪ، ﻓﺄﺗﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺄﺧﺒﺮﻩ ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﺪاﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﺨﻴﺮ ﻛﻔﺎﻋﻠﻪ.
ﻭﻓﻲ اﻟﺒﺎﺏ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺴﻌﻮﺩ اﻟﺒﺪﺭﻱ، ﻭﺑﺮﻳﺪﺓ.
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﻏﺮﻳﺐ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻟﻮﺟﻪ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﺃﻧﺲ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ۔

(باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ، رقم الحدیث : 2670، ط : دار الغرب الاسلامی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 331
islamic post shares karne kay us kay niche koi targhhebi jumla likhnay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.