عنوان: کیا صدقہ کے جو فضائل ہیں،ان کا اطلاق زکوۃ پر بھی ہوتا ہے؟(7161-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
مفتی صاحب !
اکثر بیانات اور پیغامات وغیرہ میں صدقہ کے فضائل بیان ہوتے ہیں، برائے مہربانی زکوٰۃ ادا کرنے کے بھی فضائل ارشاد فرما دیں۔
جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ قرآن وحدیث میں زکوۃ کو صدقہ بھی کہا گیا ہے، امام ماوردی ؒ فرماتے ہیں:صدقہ زکوۃ ہے اور زکوۃ صدقہ ہے، نام الگ الگ ہیں اور مسمی ایک ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا
(سورۃ التوبۃ: آیت نمبر، 103)
ترجمہ:
اے پیغمبر! ان کے اموال سےصدقہ( زکوۃ) وصول کرلو، جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو اور ان کے لئے باعث برکت بنوگے۔
نیز مصارف زکوۃ بیان کرتے ہوئے اللہ جل شانہ نے فرمایا:
إنما الصدقات للفقراء و المساکین
( سورۃ التوبۃ: آیت نمبر، 60)
ترجمہ:
صدقات (زکوۃ) تو دراصل حق فقیروں کا، مسکینوں کا ہے۔
عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه، قال: سمعت أبا سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس فيما دون خمس ذود صدقة من الإبل، وليس فيما دون خمس أواق صدقة، وليس فيما دون خمسة أوسق صدقة»
(بخاری، حدیث نمبر:1447، 116/2،ط:دارطوق النجاۃ)
ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم (غلہ اور پھل) میں صدقہ نہیں ہے۔ (صدقہ بمعنی زکوۃ ہے)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا:
فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم»
(بخاری، حدیث نمبر:1395، 104/2،ط:دارطوق النجاۃ)
ترجمہ:
ان کو بتاؤ کہ اللہ پاک نے ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے، مالداروں سے لے کر فقرا کو دی جائے۔
ان آیات اور احادیث میں صدقہ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس سے زکوۃ مراد ہے۔
اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جہاں جہاں اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے لفظِ "صدقہ" کہہ کر جو فضائل بیان کیے گئے ہیں، ان فضائل میں "زکوۃ" بھی شامل ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں زکوٰۃ کے فضائل:
(الف) {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}
(البقرة: آیت نمبر 277)
ترجمہ:
بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔
(ب) نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طر ف بھیجا تو فرمایا: ان کو بتاؤ کہ اللہ پاک نے ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے، مالداروں سے لے کر فقرا کو دی جائے۔
(سنن الترمذی،حدیث نمبر:625)
(ج) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، ان میں سے ایک زکوۃ ہے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر:8، 11/1،ط:دارطوق النجاۃ)
قرآن وحدیث کی روشنی میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے متعلق وعیدیں:
(الف){وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ}
(التوبہ: آیت نمبر 35)
ترجمہ:
اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے، جس دن اس خزانے کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔
(ب)رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے مال دیا ہو اور اس شخص نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی ہو، تو قیامت کے روز زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال و دولت گنجا سانپ (یعنی انتہائی زہریلا ) بنا کر ان پر مسلط کردیاجائے گا، جو انہیں مسلسل ڈستا رہے گا اور کہے گا:
میں تیرامال ہوں، میں تیراخزانہ ہوں۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر:1403، 106/2، ط:دارطوق النجاۃ)

(ج)عن عمر بن الخطاب رضی الله تعالیٰ عنه قال: { مَاتَلَفَ مَالٌ فِی بَرِّ وَّ لاَ بَحْرٍ اِلَّا بِحَبْسِ الزكوة.}
ترجمہ:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ خشکی اور تری میں جو مال تلف (ہلاک) ہوتا ہے، وہ زکوۃ نہ دینے ہی سے تلف (ہلاک) ہوتا ہے۔
(الترغیب والترھیب،حدیث نمبر:1141، 308/1،ط:دارالکتب العلمیۃ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

عمدۃ القاری: (236/8، ط: دار إحیاء التراث العربی)
وأطلق لفظ: الصدقة، على الزكاة كما في قوله تعالى: {إنما الصدقات للفقراء} (التوبة: 06) . والمراد بها: الزكاة.

فقہ الزکاۃ لدکتور یوسف القرضاوی: (6/1، ط: الرسالۃ العالمیۃ)
والزکاۃ الشرعیۃ قد تسمی فی لغۃ القرآن و السنۃ ’’صدقۃ‘‘ حتی قال الماوردی : ’’الصدقة زكاة، والزكاة صدقة، يفترق الاسم ويتفق المسمى‘‘
قال تعالی: : (وخذ من أموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها
وقال تعالی: ومنهم من يلمزك في الصدقات فإن أعطوا منها رضوا وإن لم يعطوا منها إذا هم يسخطون
وقال تعالی: إنما الصدقات للفقراءوالمساكين ۔۔۔۔۔الایۃ۔إلی غیرھا من الآیات۔
وفی الحدیث: ليس فيما دون خمس ذود صدقة من الإبل، وليس فيما دون خمس أواق صدقة، وليس فيما دون خمسة أوسق صدقة»
وفی إرسال معاذ إالی الیمن : أعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم»
وھذہ النصوص کلھا قد جاءت فی شأن الزکاۃ عبرت عنھا بالصدقۃ ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 454 Mar 27, 2021
kia sadqay kay jo fazail hain unka itlaaq zakat par bhi hota hai?, Do the virtues of charity also apply to Zakat?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.