عنوان: پراپرٹی خرید کر دینے پر طے شدہ کمیشن وصول کرنا(107208-No)

سوال: مفتی صاحب ! انویسٹر بروکر کو یہ کہے کہ فلاں گھر مجھ کو ایک لاکھ میں دلوا دو، میں تمہیں ایک لاکھ دونگا۔ تو کیا اس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب:
پراپرٹی خرید کر دینے کے عوض خریدار کے ساتھ٬ باہمی رضامندی سے طے شدہ کمیشن وصول کرنے کی مذکورہ صورت شرعا درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی شرح المجلۃ :

" اذا اشترطت الاجرۃ فی الوکالۃ واوفاہا الوکیل یستحقہا"

( المادۃ ۱۴۶۷)

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:

"تصح الوکالۃ باجر وبغیر اجر لان النبیﷺ کان یبعث عمالہ لقبض الصدقات ویجعل لہم عمولۃ"

(٤/٢٩٩٧ ط. دار الفکر سوریة)

وفی الھندیۃ:

"وفی الدلال والسمساریجب أجرالمثل…دفع ثوبًاالیہ وقال بعہ بعشرۃ فمازادفھوبینی وبینک…ولوباعہ باثنی عشرأوأکثر فلہٗ أجرمثل عملہٖ وعلیہ الفتوٰی"

(۴: ۴۵۰،۵۱ کتاب الاجارۃ،الباب السادس عشرفی مسائل الشیوع الخ)

وفی الشامیة:

"وفی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃ السمسار فقال ارجو انہ لابأس بہ وان کان فی الاصل فاسداً لکثرۃ التعامل"

(۵:۴۴ مطلب فی أُجرۃ الدلال،کتاب الاجارۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 38

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com