عنوان: اگر عمرے سے روکے جانے کا خطرہ ہو تو کیا احرام میں شرط لگا سکتے ہیں؟(107209-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک سوال کرنا چاہتی ہوں، وہ یہ کہ اس وقت سعودی حکومت نے عمرہ وغیرہ پر پابندی لگا رکھی ہے، ہر ایک کو عمرہ کی اجازت نہیں ہے، اگر احرام باندھ کرجائیں اور حکومت عمرہ کرنے سے روک دے، تو کس طرح احرام کھولنا ہوگا؟ نیز اگر اس طرح احرام باندھتے وقت نیت کی جائے کہ حکومت نے اگر اجازت دی تو میرا احرام ہے، ورنہ نہیں۔ اس نیت کے ساتھ عمرہ کے لئے میں چلی جاؤں اور حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملے تو کیا احرام کھول سکتی ہوں؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر کسی کو احرام پہننے اور تلبیہ پڑھنے کے بعد عمرہ کرنے سے روک دیا گیا ہو اور عمرہ کی ادائیگی کی کوئی قانونی صورت ممکن نہیں ہو، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک بکری یا دنبہ حرمِ مکی میں ذبح کروائے، جانور کی قربانی کے بعد اس محرم کے لئے احرام کھولنا جائز ہوگا، البتہ اس کے ذمہ اس فوت شدہ عمرہ کے بدلے ایک عمرہ کی قضاء لازم ہوگی۔

جہاں تک آپ کا احرام میں شرط لگانے کا سوال ہے، تو یاد رکھیے کہ تسلی اور اطمینانِ قلب کے لئے شرط لگائی جاسکتی ہے، لیکن اس صورت میں بھی احرام کھولنے کے لئے مذکورہ بالا طریقہ ہی اختیار کرنا ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما فی الجامع الترمذی:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَفَأَشْتَرِطُ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ كَيْفَ أَقُولُ قَالَ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنْ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِی۔

(باب بَابُ مَا جَاءَ فِي الاِشْتِرَاطِ فِي الْحَجِّ​، رقم الحدیث: 941)

و فیہ ایضا:

عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(باب منہ، رقم الحدیث: 942)

قال صاحب الھدایہ:

إذا احصر المحرم بعدو او اصابہ مرض، فمنعہ من المضی جاز له التحلل، و إذا جاز له التحلل، یقال لہ ابعث شاۃ تذبح فی الحرم و واعد من تبعثه لیوم بعینہ یذبح فیه ثم تحلل۔

(ج: 1، ص: 312، ط: مکتبہ رحمانیہ)

کذا فی ارشاد الساری:

صرحوا انہ لا یدخل فی الاحرام بمجرد النیۃ، بل لا بد من التلبیۃ او مایقوم مقامھا، حتی لو نوی ولم یلب لایصیر محرما وکذا لو لبی ولولم ینو۔

(باب الاحرام، ج1، ص: 125، ط: مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمۃ)

لما فی لباب مع ارشاد الساری:

اذا احصر المحرم بحجۃ او عمرۃ وارادالتحلل یجب علیہ ان یبعث الھدی وھو شاۃ وما فوقھا۔۔۔ او یبعث ثمن الھدی لیشتری بہ الھدی، ویامر بذلک فیذبح عنہ فی الحرم۔

(باب الاحصار، فصل فی بعث الھدی، ص: 587، ط: الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ)

کذا فی درسِ ترمذی:

(ج3 ، ص197، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 261
agar umray se rokay janay ka khatra ho to kia ihram mai shart laga saktay hain ?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.