عنوان: کسی سوفٹ ویئر کو ہیک (hack) کرکے استعمال کرنے کا شرعی حکم (7234-No)

سوال: مفتی صاحب ! ہم ویڈیو ایڈیٹنگ (ویڈیوز کی تزئین) کے لیے موبائل اور کمپیوٹرز میں کچھ سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں، اگر ان کو باقاعدہ انٹرنیٹ یا بازار سے خریدا جائے تو ان کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے یا ان کے مینٹیننس (maintenance) کے لیے سالانہ چارج ادا کرنا ہوتا ہے، لیکن ایک خاص طریقہ استعمال کرکے اس کو مفت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دیگر الفاظ میں کہا جائے تو ان سافٹ ویئرز کو ہیک (hack) کیا جاتا ہے اور اس صورت میں کوئی رقم یا چارج ادا نہیں کرنی پڑتا۔
بصورت دیگر ان سافٹ ویئرز کے استعمال میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، جو طلباء اور software users کے لئے فراہم کرنا دشوار ہے، مزید یہ کہ تعامل کے ساتھ لوگ ساری دنیا میں یہی ہیک شدہ سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں۔
کیا ہیکنگ (hacking) کی صورت میں ان کا اس طرح استعمال کرنا (کسی دینی یا دنیوی غرض کے لئے) درست ہے یا نہیں؟
کیا سافٹ وئیر کا اس طرح ہیک کرکے استعمال کرنے میں کوئی گناہ تو نہیں؟

جواب: جس کمپنی نےاپنا سافٹ ویئرز باقاعدہ قانونی طور پر رجسٹرڈ کروا کے اس کا لائسنس حاصل کیا ہو٬ تو ایسے سافٹ ویئرز کو ہیک (hack) کرکے استعمال میں لانا، یا کمپنی کی اجازت کے بغیر آگے فروخت کرنا شرعا درست نہیں ہے٬ تاہم اجازت کی دو قسمیں ہیں: صراحتا اور دلالتا: صراحتا اجازت یہ ہے کہ واضح الفاظ میں کوئی شخص اپنی چیز کے استعمال کی اجازت دیدے٬ اور دلالتا اجازت کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہے کہ کوئی شخص اس کی چیز استعمال کر رہا ہے٬ لیکن وہ اس کو منع کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود منع نہیں کرتا٬ تو یہ بھی اجازت ہے٬ سافٹ ویئر کے ذاتی استعمال میں اگر بظاہر دلالتا اجازت معلوم ہوتی ہو٬ تو اس کے ذاتی استعمال کی گنجائش معلوم ہوتی ہے٬ بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جائے۔
باقی جو سافٹ وئیرز غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس کے ہوتے ہیں٬ ان کے استعمال کرنے پر کوئی پابندی بھی نہ ہو٬ تو ایسے سافٹ ویئرز کا جائز کاموں میں استعمال جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بحوث في قضايا فقھیة معاصرۃ: (98/1، ط: مکتبہ دار العلوم کراتشی)
"حق الابتكار وحق الطباعة:
إن حق الابتكار حق يحصل بحكم العرف والقانون لمن ابتكرمخترعا جديدا أو شكلا جديدا لشيء. والمراد من حق الابتكار أن هذا الرجل ينفرد بحق إنتاج ما ابتكره وعرضه للتجارة. ثم ربما يبيع هذا الحق إلى غيره، فيتصرف فيه تصرف المبتكر الأول من إنتاجه للتجارة. وكذلك من صنف كتابا أو ألفه فله حق طباعة ذلك الكتاب ونشره والحصول على أرباح التجارة. وربما يبيع هذا الحق إلى غيره، فيستحق بذلك ما كان يستحقه المؤلف من طباعته ونشره. فالسؤال: هل يجوز بيع حق الابتكار أو حق الطباعة والتأليف أم لا يجوز؟ وقد اختلفت في هذه المسألة آراء الفقهاء والمعاصرين، فمنهم من جوز ذلك، ومنهم من منع.
والمسألة. الأساسية في هذا الصدد: هل حق الابتكار أو حق الطباعة حق معترف به شرعا؟ والجواب على هذا السؤال أن من سبق إلى ابتكار شيء جديد سواء كان ماديا أو معنويا، فلا شك أنه أحق من غيره بإنتاجه لانتفاعه بنفسه، وإخراجه إلى السوق من أجل اكتساب الأرباح، وذلك لما روى أبو داود عن أسمر بن مضرس رضي الله عنه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته فقال: ((من سبق إلى ما لم يسبقه مسلم فهو له)) .
وإن كان العلامة المناوي رحمه الله رجح أن هذا الحديث وارد في سياق إحياء الموات، ولكنه نقل عن بعض العلماء أنه يشمل كل عين وبئر ومعدن، ومن سبق لشيء منها فهي له، ولا شك أن العبرة لعموم اللفظ لا الخصوص السبب.
ولما ثبت أن حق الابتكار حق تقره الشريعة الإسلامية بفضل أسبقية إلى ابتكار ذلك الشيء، فينطبق عليه ما ذكرنا في حق الأسبقية من أحكام ...........
ونقلنا نص البهوتي عن " شرح منتهى الإرادات " في جواز النزول عن حق التحجير وحق الجلوس في المسجد، وما إلى ذلك من حقوق الأسبقية والاختصاص، ومقتضى ذلك أن يجوز النزول عن حق الابتكار أو حق الطباعة لرجل آخر بعوض يأخذه النازل، ولكن هذا إنما يأتي في أصل حق الابتكار وحق الطباعة، أما إذا قرن هذا الحق بالتسجيل الحكومي الذي يبذل المبتكر من أجله جهده وماله ووقته والذي يعطي هذا الحق مكانة قانونية تمثلها شهادة مكتوبة بيد المبتكر وفي دفاتر الحكومة، وصارت تعتبر في عرف التجار مالا متقوما فلا يبعد أن يصير هذا الحق المسجل ملحقا بالأعيان والأموال بحكم هذا العرف السائر، وقد أسلفنا أن للعرف مجالا في إدراج بعض الأشياء في حكم الأموال والأعيان، لأن المالية كما حكينا عن ابن عابدين رحمه الله تثبت بتمول الناس، وإن هذا الحق بعد التسجيل يحرز إحراز الأعيان، ويدخر لوقت الحاجة ادخار الأموال، وليس في اعتبار هذا العرف مخالفة لأي نص شرعي من الكتاب أو السنة، وغايته أن يكون مخالفا للقياس، والقياس يترك للعرف، كما تقرر في موضعه"

کذا فی تبویب فتاوی دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: 1289/29

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 881 Apr 06, 2021
kisi softwear ko hack kar kay istimaal karne ka shar'ee hukum, Shariah ruling to use a software by hacking

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.