عنوان: انعامی اسکیم والی چیزیں خریدنے کا حکم(107238-No)

سوال: السلام علیکم، کیا انعامی اسکیم والی اشیاء خوردونوش خریدنا اور انعام نکلنے کی صورت میں وہ انعامی چیز مثلا کار یا موٹر سائیکل وغیرہ لینا جائز ہے؟

جواب: اگر دکان یا کمپنی ٹوکن ڈالنے کے بعد چیزیں عام بازاری قیمت کے مطابق دیتی ہے، تو اس طرح چیزیں خریدنا اور ٹوکن کی صورت میں انعام حاصل کرنا جائز ہے، اور اگر ٹوکن ڈالنے کے بعد چیزوں کی قیمت میں اضافہ کردیتی ہے، تو اس طرح کی چیزیں خریدنا ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

کذا فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة :

ان النوع الاول من ھذہ الجوائز ماتمنح علی اساس القرعة ونحوھا لمشتری بضاعة مخصوصة او منتج مخصوص۔ فان کثیرا من التجار یعلنون جوائز یوزعونھا علی جملة منتخبة من المشترین الذین یشترون بضاعتھم، ویقع انتخاب المجازین اما عن طریق القرعة او علی اساس ارقام الکوبونات التی توضع مع البضاعة۔ فمن اشتری بضاعة حصل علی کوبون، فلو وافق رقم کوبونہ الرقم المنتخب للجائزة، استحق ان یحوز الجائزة المخصصة لذلک الرقم، وان حکم مثل ھذہ الجوائز انھا تجوز بشروط :

الشرط الاول : ان یقع شراء البضاعة بثمن مثلہ، ولایزاد فی ثمن البضاعة من اجل احتمال الحصول علی الجوائز۔ وھذا لانہ ان زاد البائع علی ثمن المثل، فالمقدار الزائد انما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائزة المحتملة، فصارت الجائزة بمقابل مالی فلم یبق تبرعا، وان ھذا المقابل المالی انما وقع بہ المخاطرة فصارت العملیة قمارا۔

اما اذا بیعت البضاعة بثمن مثلھا، فان المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذلہ ولم یخاطر بشیئ فالجائزة التی یحصل علیھا جائزة بدون مقابل فیدخل فی التبرعات المشروعة۔

(ج2، ص238، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 22

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com