عنوان: رضاعی بھائی کے ساتھ عمرہ کے لیے جانے اور ہوٹل کے کمرے میں ٹھہرنے کا شرعی حکم (107267-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا رضاعی بھائی کے ساتھ عورت عمرہ کر سکتی ہے اور وہاں دونوں ہوٹل کے ایک کمرے میں قیام کر سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ رضاعی (دودھ شریک) بھائی اپنے حقیقی بھائی کی طرح محرم ہے، اس سے پردہ نہیں ہے، لہذا اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو محرم ہونے کی بنا پر اس کے ساتھ عمرہ پر جانا صحیح ہے، البتہ رضاعی بھائی کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں تنہائی میں رہنا صحیح نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

کذا فی صحیح البخاری :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻫﻤﺎﻡ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻗﺘﺎﺩﺓ، ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺑﻨﺖ ﺣﻤﺰﺓ: «ﻻ ﺗﺤﻞ ﻟﻲ، ﻳﺤﺮﻡ ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎﻉ ﻣﺎ ﻳﺤﺮﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺴﺐ، ﻫﻲ ﺑﻨﺖ ﺃﺧﻲ ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎعۃ۔

(باب الشھادۃ علی الانساب والرضاع والمستفیض، رقم الحدیث : 2645، ط: دار طوق النجاۃ)

کذا فی بدائع الصنائع :

ﺃﻣﺎ ﺗﻔﺴﻴﺮ اﻟﺤﺮﻣﺔ ﻓﻲ ﺟﺎﻧﺐ اﻟﻤﺮﺿﻌﺔ ﻓﻬﻮ ﺃﻥ اﻟﻤﺮﺿﻌﺔ ﺗﺤﺮﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺮﺿﻊ؛ ﻷﻧﻬﺎ ﺻﺎﺭﺕ ﺃﻣﺎ ﻟﻪ ﺑﺎﻟﺮﺿﺎﻉ ﻓﺘﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻪ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ {ﻭﺃﻣﻬﺎﺗﻜﻢ اﻟﻻﺗﻲ ﺃﺭﺿﻌﻨﻜﻢ} [اﻟﻨﺴﺎء: 23] معطوفا ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ {ﺣﺮﻣﺖ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺃﻣﻬﺎﺗﻜﻢ ﻭﺑﻨﺎﺗﻜﻢ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 23] ، فسمی ﺳﺒﺤﺎﻧﻪ ﻭﺗﻌﺎﻟﻰ اﻟﻤﺮﺿﻌﺔ ﺃﻡ اﻟﻤﺮﺿﻊ ﻭﺣﺮﻣﻬﺎ ﻋﻠﻴﻪ۔

ﻭﻛﺬا ﺑﻨﺎﺗﻬﺎ ﻳﺤﺮﻣﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻮاء ﻛﻦ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻠﺒﻦ ﺃﻭ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻠﺒﻦ ﻣﻦ ﺗﻘﺪﻡ ﻣﻨﻬﻦ ﻭﻣﻦ ﺗﺄﺧﺮ؛ ﻷﻧﻬﻦ ﺃﺧﻮاﺗﻪ ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎﻋﺔ ﻭﻗﺪ ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ {ﻭﺃﺧﻮاﺗﻜﻢ ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎﻋﺔ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 23] اﺛﺒﺖ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ اﻷﺧﻮﺓ ﺑﻴﻦ ﺑﻨﺎﺕ اﻟﻤﺮﺿﻌﺔ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﻤﺮﺿﻊ ﻭاﻟﺤﺮﻣﺔ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻣﻄﻠﻘﺎ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻓﺼﻞ ﺑﻴﻦ ﺃﺧﺖ ﻭﺃﺧﺖ، ﻭﻛﺬا ﺑﻨﺎﺕ ﺑﻨﺎﺗﻬﺎ ﻭﺑﻨﺎﺕ ﺃﺑﻨﺎﺋﻬﺎ ﻭﺇﻥ ﺳﻔﻠﻦ؛ ﻷﻧﻬﻦ ﺑﻨﺎﺕ ﺃﺥ اﻟﻤﺮﺿﻊ ﻭﺃﺧﺘﻪ ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎﻋﺔ، ﻭﻫﻦ ﻳﺤﺮﻣﻦ ﻣﻦ اﻟﻨﺴﺐ ﻛﺬا ﻣﻦ اﻟﺮﺿﺎﻋﺔ.

(کتاب الرضاع، ج :4، ص :2، ط : دار الکتب العلمیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 176
razai bhai kay sath umra kay liye jatay or hote kay kamray mai tehernay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.