عنوان: حضرت فاطمہ، ازواجِ مطہرات و صحابیات رضی اللہ عنھن کا پردہ (107276-No)

سوال: السلام علیکم و رحمة الله و بركاته، مفتی صاحب ! امہات المؤمنين اور رسول الله صلى الله عليه وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پردہ کے بارے میں کچھ بتادیں۔ جزاکم الله خيرا

جواب: حضرت فاطمہ، ازواج مطہرات و صحابیات رضی اللہ عنھن کے پردہ سے متعلق چند روایات ذکر کی جاتی ہیں، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ ان پاکیزہ ہستیوں کے نزدیک عورت کے پردے کی کیا اہمیت ہے۔

حدثنا محمد بن الحسين الكوفي، قال: نا مالك بن إسماعيل، قال: نا قيس، عن عبد الله بن عمران، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن علي رضي الله عنه أنه كان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أي شيء خير للمرأة؟ فسكتوا، فلما رجعت قلت لفاطمة: أي شيء خير للنساء؟ قالت: ألا يراهن الرجال، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إنما فاطمة بضعة مني» رضي الله عنها وهذا الحديث لا نعلم له إسنادا عن علي رضي الله عنه إلا هذا الإسناد.

(البزار فی مسندہ :۲؍ ۱۵۹،(۵۲۶)،ط:دارالعلوم والحکم)

ترجمہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے؟
اس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش ہوگئے (اور کسی نے جواب نہیں دیا)حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے واپس آکر حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنھا )سے دریافت کیا کہ عورتوں کےلئے سب سے بہتر کیا بات ہے؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں، تو میں نے جواب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ عنھا ) میری لختِ جگر ہے۔


حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے کہا کہ مجھے حیا آتی ہے کہ جب میرا انتقال ہو، تو لوگ مردوں کے تخت پر لٹا کر اور ایک کپڑا اوڑھا کر مجھے کندھے پر اٹھا لیں۔اس لیے اندیشہ ہے کہ کپڑے کے اوپر سے میرا جسم ظاہر ہو، تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا:
جگرِ گوشہِ رسولﷺ ! کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ دکھاؤں، جو میں نے ’’ حبشہ ‘‘ میں دیکھی تھی؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ، کیوں نہیں ضرور۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کھجور کی تازہ ٹہنیاں منگوائیں ، کمان کی شکل میں ان کو موڑ موڑ کر رکھا، اور ان کے اوپر کپڑا ڈال دیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ تو بڑی اچھی چیز ہے ، اس سے مرد و عورت کے جنازہ میں امتیاز ہو جائے گا اور عورت کا جسم بھی چھپ جائے گا۔ دیکھو اسماء ! جب میرا انتقال ہو، تو تم اور علی میرے غسل میں شریک ہوں، کوئی اور میرے قریب نہ آئے، اور میری چارپائی پر اسی طرح چھڑیاں رکھ دینا۔
جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دلہن کے ڈولے کی طرح کی ایک پردہ پوش چادر چارپائی تیار کی، اور کہا: فاطمہ نے مجھے اس کی وصیت کی تھی۔

ان روایات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پردہ کا کتنا اہتمام فرماتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ آپﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی پاکدامنی پر جنت کی خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ عنھا ) نے اپنی عصمت اور پاکدامنی کی ایسی حفاظت کی کہ اللہ تعالی نے اس کی پاکدامنی کی وجہ سے اسے اور اس کی اولاد کو جنت میں داخل فرمادیا۔

اور ایک روایت میں ہے کہ بے شک فاطمہ (رضی اللہ عنھا )نے اپنی عصمت اور پاکدامنی کی حفاظت کی، تو اللہ تعالی نے اس کی اولاد پر جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔

وأخرج عبد الرزاق، وعبد بن حميد، وأبو داود، وابن المنذر، وابن أبي حاتم، وابن مردويه عن أم سلمة قالت:
لما نزلت هذه الآية يدنين عليهن من جلابيبهن خرج نساء الأنصار كأن رؤوسهن الغربان من السكينة، وعليهن أكسية سود يلبسنها


(="Arabic">فتح القدیر: ۳۵۲/۴، ط: دارابن کثیر)

ترجمہ:

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی، تو انصار کی خواتین اپنے گھروں سے اس طرح نکلیں کہ گویا ان کے سر اس طرح بے حرکت تھے، جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، اور ان کے اوپر کالا کپڑا تھا، جس کو وہ پہنی ہوئی تھیں"۔

عن عائشة، قالت: «كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله
عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه
»

(سنن ابی داود ، کتاب الحج ، باب فی المحرمۃ تغطی وجھھا ، برقم : ۱۸۳۳ ،ج:۲،ص:۱۶۷،ط:المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفرِ حج میں حالتِ احرام میں تھیں، جب ہمارے پاس سے کوئی سوار گزرتا، تو ہم اپنی چادروں کو اپنے سروں سے لٹکا کر چہرے کے سامنے کرلیتیں اور جب لوگ گزر جاتے تو ہم چہرے کھول لیتیں۔

حدثنا عبد الرحمن بن سلام، حدثنا حجاج بن محمد، عن فرج بن فضالة، عن عبد الخبير بن ثابت بن قيس بن شماس، عن أبيه، عن جده، قال: جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة، تسأل عن ابنها، وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة؟ فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي۔۔۔۔ ۔

(سنن ابی داود ، کتاب الجہاد ، باب قتال الروم ۔۔ ، ۲۴۸۸ ،ج:۳،ص:۵،ط:المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:

حضرت قیس بن شماس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی، اس کا نام امّ خلاد تھا اور اس کے چہرے پر نقاب پڑا ہوا تھا، یہ عورت اپنے بیٹے کے بارے میں دریافت کر رہی تھی، جو جنگ میں شہید ہو گیا تھا، اصحاب رسول ﷺ میں سے کسی نے آپ کو نقاب میں دیکھ کر کہا: اس وقت بھی آپ نے نِقاب ڈال رکھا ہے، آپ نے جواباً فرمایا : میں نے بیٹاضرور کھویا ہے، حیا نہیں کھوئی۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لمافی مسند البزار:

حدثنا محمد بن الحسين الكوفي، قال: نا مالك بن إسماعيل، قال: نا قيس، عن عبد الله بن عمران، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن علي رضي الله عنه أنه كان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أي شيء خير للمرأة؟ فسكتوا، فلما رجعت قلت لفاطمة: أي شيء خير للنساء؟ قالت: ألا يراهن الرجال، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إنما فاطمة بضعة مني» رضي الله عنها وهذا الحديث لا نعلم له إسنادا عن علي رضي الله عنه إلا هذا الإسناد.

(البزار فی مسندہ :۲؍ ۱۵۹،(۵۲۶)،ط:دارالعلوم والحکم)

رواہ دارقطنی فی الافراد :

(ص:۱۶۹، (۳۵)،ط: مكتبة أحمد الخضري)

وقال: هذا حديث غريب من حديث الحسن البصري، عن علي، عن فاطمة عليهما السلام، تفرد به أبو بلال الأشعري، عن قيس بهذا الإسناد.

ورواہ الھیثمی فی مجمع الزوائد:(۹؍۳۲۷،(۱۵۲۰۰)،ط:دارالفکر)

و قال:رواه البزار وفيه من لم أعرفه۔

رواہ ابن الحجرالعسقلانی فی مختصر زوائد مسند البزار:(۲؍۳۴۴،(۱۹۹۰))وقال:
قال: لا نعلم له إسنادا عن على إلا هذا. قلت: قيس ضعيف, وشيخه مجهول, وشيخ شيخه ضعيف, وآخر القصة ثابت في الصحيح من غير هذا الوجه.

ورواہ علی المتقی فی کنزالعمال :

(۴۶۰۱۱)، ۱۶؍ ۶۰۱،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

وفی السنن الکبری للبیھقی:

أخبرنا أبو حازم الحافظ، أنبأ أبو أحمد بن محمد الحافظ، أنبأ أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي، ثنا قتيبة بن سعيد، ثنا محمد بن موسى، عن عون بن محمد بن علي بن أبي طالب، عن أمه أم جعفر بنت محمد بن جعفر، وعن عمارة بن مهاجر، عن أم جعفر، أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: " يا أسماء إني قد استقبحت ما يصنع بالنساء، إنه يطرح على المرأة الثوب فيصفها "، فقالت أسماء: يا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أريك شيئا رأيته بأرض الحبشة فدعت بجرائد رطبة فحنتها، ثم طرحت عليها ثوبا، فقالت فاطمة رضي الله عنها: " ما أحسن هذا وأجمله يعرف به الرجل من المرأة فإذا أنا مت فاغسليني أنت وعلي رضي الله عنه ولا تدخلي علي أحدا "، فلما توفيت رضي الله عنها جاءت عائشة رضي الله عنها تدخل، فقالت أسماء: لا تدخلي فشكت أبا بكر، فقالت: إن هذه الخثعمية تحول بيني وبين ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد جعلت لها مثل هودج العروس , فجاء أبو بكر رضي الله عنه فوقف على الباب، وقال: يا أسماء ما حملك أن منعت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يدخلن على ابنة النبي صلى الله عليه وسلم وجعلت لها مثل هودج العروس، فقالت: أمرتني أن لا تدخلي علي أحدا وأريتها هذا الذي صنعت وهي حية فأمرتني أن أصنع ذلك لها، فقال أبو بكر رضي الله عنه: فاصنعي ما أمرتك، ثم انصرف وغسلها علي، وأسماء رضي الله عنهما

(حدیث نمبر:۶۹۳۰،ج:۴، ص:۵۶،ط:دارالکتب العلمیۃ)

کذا فی حلیۃ الاولیا ء لأبی نعیم الأصبھانی:

(۲؍۴۳،ط:دارالفکر)

کذا فی اسد الغابۃ:

(۷؍۲۱۶،(۷۱۸۳)،ط:دارالکتب العلمیۃ)

وفی المعجم الکبیرللطبرانی:

عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن فاطمة حصنت فرجها، وإن الله عز وجل أدخلها بإحصان فرجها وذريتها الجنة»

(حدیث نمبر:۲۶۲۵،ج: ۳، ص:۴۱،ط:مکتبۃ ابن تیمیہ)

وفیہ ایضاً:

عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن فاطمة حصنت فرجها فحرمها الله وذريتها على النار»

(حدیث نمبر:۱۰۱۸،ج: ۲۲، ص:۴۰۶،ط:مکتبۃ ابن تیمیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 476
hazrat fatima azwaaj e mutahharat or sahabiyat razi allaho anhnna ka parda

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.