عنوان: وظیفہ یا تعویذ وغیرہ کے ذریعہ جرائم ثابت کرنے کا حکم(107344-No)

سوال: ہمارے محلہ میں ایک عامل ہے، جب کسی کے یہاں چوری یا ڈاکہ پڑتا ہے، تو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اور وہ وظیفہ اور تعویذ کے ذریعہ چور اور ڈاکو کا بتاتا ہے اور جرائم ثابت کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا وظیفہ یا تعویذ وغیرہ کے ذریعہ جرائم ثابت کرنے کا کیا حکم ہے اور مذکورہ طریقوں سے جرائم ثابت ہونے پر یقین رکھنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کسی بھی شخص کو وظیفہ یا تعویذ وغیرہ کے ذریعہ یقینی طور پر خبر حاصل نہیں ہوسکتی، لہذا وظیفہ یا تعویذ وغیرہ کے ذریعہ کسی کو چور، ڈاکو یا کسی پر جرم ثابت کرنا شرعا درست نہیں ہے، اور ان طریقوں سے جرائم ثابت ہونے پر یقین رکھنا ناجائز ہے اور ان کی تصدیق کفر تک لے جانے والی ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی المرقاۃ:

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول ﷲﷺ من اتیٰ کاھنا فصدقہ بما یقول … … فقد بریٔ مما انزل علی محمد۔

(فقد بریٔ مما انزل علی محمد) ای کفر وھو محمول علی الاستحلال او علی التھدید والوعید۔

(ج: 9، ص: 17)

وفی شرح الفقہ الاکبر:

ان تصدیق الکاھن بما یخبر عن الغیب کفر۔

(ص: 149)

وفی رد المحتار:

ان الکاھن من یدعی معرفۃ الغیب باسباب وھی مختلفۃ فلذا انقسم الی انواع متعددۃ کالعراف والرمال والمنجم …… والذی یدعی انہ لہ صاحبا من الجن یخبرہ عما سیکون والکل مذموم شرعا محکوم علیھم وعلی مصدقھم بالکفر ……وفی التاتارخانیۃ یکفر بقولہ انا اعلم المسروقات۔

(ج: 4، ص: 242، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 255
wazeefa ya taweez wagaira jaraim saabit karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.