عنوان: اعتکاف انفرادی عبادت ہے یا اجتماعی عبادت؟(107382-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب !رہنمائی فرمائیں کہ اعتکاف انفرادی عبادت ہے کہ اجتماعی؟ دراصل ہماری مسجد میں اعتکاف کا باقاعدہ schedule بنا کر اس پر عمل کرنے کو کہا جاتا ہے، مثال کے طور پر بیان کا وقت مقرر ہے، اس وقت زور دیا جاتا ہے کہ دوسری عبادت ترک کر کے بیان سنیں اور تعلیم کا وقت مقرر ہے، اس وقت آپ تعلیم میں بیٹھیں۔ مطلب انکی مرضی کے مطابق اعتکاف کریں، بے شک یہ سارے عمل وہ معتکفین کے لئے بہت اخلاص کے ساتھ کرواتے ہیں، مگر کیا یہ شریعت کے مطابق ہے؟ بہت نوازش ہوگی۔جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ اعتکاف ایک انفرادی عبادت ہے، اجتماعی عبادت نہیں ہے، کیونکہ اعتکاف سنت علی الکفایۃ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسجد میں ایک آدمی بھی اعتکاف کرلے، تو سارے محلے والوں کی طرف سے اعتکاف کی سنت ادا ہوجائے گی، اگر اعتکاف اجتماعی عبادت ہوتا، تو کم ازکم دو افراد کی تاکید کی جاتی، اس لیے کہ اجتماعی عبادت کے لئے کم ازکم دو افراد کا ہونا شرط ہے، جیسا کہ نماز باجماعت میں ہے۔
اور اعتکاف کا مقصدسب سے کٹ کر اور سب سے ہٹ کر، ہر طرف سے یکسو ہو کر اپنے مالک سے لو لگا کر دل کو اطمینان اور سکون بخشنا ہے، اور یہ مقصد انفرادی عبادت ہی سے زیادہ حاصل ہوسکتا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے:

عن أبي سعيد الخدري قال: اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد، فسمعهم يجهرون بالقراءة وهو في قبة له، فكشف الستور، وقال: «إن كلكم مناج ربه فلا يؤذين بعضكم بعضا، ولا يرفعن بعضكم على بعض في القراءة» ، أو قال: «في الصلاة»

(مسنداحمد،حدیث نمبر:۱۱۹۸۶،ج:۱۸،ص:۳۹۲،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ ﷺ کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ ﷺ اپنے خیمے میں تھے، نبی ﷺ نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا: یاد رکھو! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اعتکاف انفرادی عبادت ہے، آپ ﷺ اعتکاف میں انفرادی معمولات فرماتے تھے۔

اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اعتکاف ایک انفرادی عبادت ہے، البتہ اگر کوئی متبع سنت شیخ یا امام اپنے متعلقین اور متوسلین کی تربیت کی خاطر ایک اجتماعی نظم بنائے، جس میں قرآن کریم کی تصحیح، نماز وغیرہ کی مشق، اصلاحی بیانات اور دینی تعلیم کے دروس وغیرہ دیے جائیں، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اس کو لازم نہ سمجھا جائے، اور جو شخص اس میں شریک نہ ہوکر اپنی انفرادی عبادات میں لگا رہے، تو اس کو شرکت پر مجبور نہ کیا جائے، اور شرکت نہ کرنے پر اس کو گنہگار سمجھنا یا اس پر نکیر کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الدرالمختار:

وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة۔

وفی الشامیۃ تحتہ

(قوله أي سنة كفاية) نظيرها إقامة التراويح بالجماعة فإذا قام بها البعض سقط الطلب عن الباقين۔

(ج:۲،ص:۴۴۲،ط:دارالفکر)

وفی حجۃ اللہ البالغۃ:

ولما كان الاعتكاف في المسجد سببا لجمع الخاطر وصفاء القلب والتفرغ للطاعة والتشبه بالملائكة والتعرض لوجدان ليلة القدر اختاره النبي صلى الله عليه وسلم في العشر الأواخر وسنه للمحسنين من أمته، قالت عائشة رضي الله عنها: السنة على المعتكف ألا يعود مريضا، ولا يشهد جنازة ولا يمس المرأة، ولا يباشرها، ولا يخرج إلا لحاجة إلا ما لا بد منه۔

(ج:۲،ص:۸۶،ط:دارالجیل،بیروت)

کذافی فتاوی قاسمیۃ:

(ج:۱۱، ص:۵۴۷،ط:مکتبہ اشرفیۃ،دیوبند)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 327

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.