عنوان: مکان بنانے کی نیت سےپلاٹ خریدا اور بعد میں بیچنے کی نیت کی، تو کیا اس پلاٹ پر زکوۃ ہوگی؟ (107389-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کسی شخص نے اپنا مکان بنانے کی نیت سے پلاٹ خریدا، مگر پتہ چلا کہ اس پر کسی نے قبضہ کیا ہوا ہے، اس بات کو پندرہ سال گذر چکے۔درمیان میں اس نے یہ نیت کرلی کہ مکان بنا کر اس میں رہنا ممکن نہیں، تو اس کو بیچ کر کسی اور جگہ پلاٹ یا کچھ اور کیا جائے۔کیا اس پر زکوٰۃ دینی ہو گی؟

جواب: واضح رہے کہ پلاٹ پر زکوة کے وجوب سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جو پلاٹ تجارت کی حتمی نیت سے خریدا جائے، اور نیت برقرار بھی رہے، تو اُس پر زکوة واجب ہوتی ہے اور جو پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا جائے، اُس پر زکوة واجب نہیں ہوتی، اسی طرح اگر کوئی پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا جائے، پھر بعد میں اُس کو بیچنے کا ارادہ ہو جائے، تو محض بیچنے کے ارادے سے اُس کی رقم پر زکوة واجب نہ ہوگی، بلکہ جب اُس کو بیچ دیا جائے گا، پھر اُس کی رقم پر زکوة کے ضابطہ کے مطابق زکوة واجب ہوگی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان پر صرف بیچنے کی نیت کرنے سے زکوۃ واجب نہیں ہوگی، بلکہ جب اُس کو بیچ دیا جائے گا، تو اُس کی رقم پر ضابطہ کے مطابق زکوة واجب ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی فتح القدير:

ومن اشترى جاريةً للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة)؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر".

(ج:٢، ص: ١٧٨،ط: دارالکتب العلمیہ بیروت )

وفی الھندیة:

اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻭاﺟﺒﺔ ﻓﻲ ﻋﺮﻭﺽ اﻟﺘﺠﺎﺭﺓ ﻛﺎﺋﻨﺔ ﻣﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﺇﺫا ﺑﻠﻐﺖ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻧﺼﺎﺑﺎ ﻣﻦ اﻟﻮﺭﻕ ﻭاﻟﺬﻫﺐ۔

(ج:١،ص:١٧٩،ط:دارالفکر بیروت )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 270
makaan bananay ki niyyat say pilot khareeda or baad mai bechnay ki niyyat ki to kia us pilot par zakat hogi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.