عنوان: برتنوں پر آیات قرآنی کندہ کروانے، ان برتنوں کو چھونے اور ان کا پانی پینے کا حکم(7390-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب ! گھر کی بڑی مستورات پیتل کے کٹورے استعمال کرتی ہیں، جن کے اندر یٰسین شریف یا الحمد شریف لکھی ہوئی (کندی ہوئی) ہوتی ہے۔
کیا ان کٹوروں کو صفائی کے لیے دھوتے وقت وہ پانی عام طریقے سے ضائع کیا جا سکتا ہے ( باورچی خانے کے برتن دھونے کی جگہ پر) ؟
یا انہیں پودوں وغیرہ میں ضائع کر دینا چاہیے؟ نیز کیا ان کٹوروں میں پانی پینا باعثِ برکت ہے اور اس کی اجازت ہے ؟
جزاک اللہ خیر

جواب: برتنوں پر قرآنی آیات کندہ کروانا اور اس برتن سے منہ لگا کر پانی پینا قرآن کریم کے ادب کے خلاف ہے، اور بغیر وضو کے اس برتن کو چھونا جائز نہیں ہے۔
چونکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اس لیے اس پانی کو پینے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔
نیز ادب کا تقاضا ہے کہ اس پانی کو عام نالیوں کی بجائے کسی گملے وغیرہ میں ڈال دیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مراسیل أبي داؤد: (ص: 20)
عن عمر بن عبد العزیز رحمہ اللّٰہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مر علی کتاب في الأرض، فقال لفتی معہ: ما ہٰذا؟ قال: بسم اللّٰہ، قال: لعنہ اللّٰہ من فعل ہٰذا لا تضعوا اسم اللّٰہ إلا في موضعہ قال: فرأیت عمر بن عبدالعزیز رأی ابنًا لہ، کتب ذکر اللّٰہ في الحائط، فضربہ".

الفتاویٰ الھندیۃ: (کتاب الکراہیۃ، 323/5)
"ولو کتب علی خاتمہ اسمہ أو اسم اللّٰہ تعالیٰ، أو ما بدا لہ من أسماء اللّٰہ نحو قولہ: {حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} أو ربي اللّٰہ أو نعم القادر؛ فإنہ لا بأس بہ، ویکرہ لمن لا یکون علی الطہارۃ۔ وفي الہندیۃ: کتابۃ القرآن علی ما یفترش ویبسط مکروہۃٌ، کذا في الغرائب: قالوا: لا یجوز أن یتخذ قطعۃ بیاض مکتوب علیہ اسم اللّٰہ تعالیٰ علامۃ فیہا بین الأوراق لما فیہ من الابتذال باسم اللّٰہ تعالیٰ".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1695 Apr 28, 2021
bartano par aayat e qurani kunda karwanay un bartano ko choonay or unka paani peenay ka hukum, Order to inscribe Quranic verses on vessels, touch these vessels and drink its water

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.