عنوان: دوران عدت وفات عورت کا بیٹے کی وفات پر اس کے آخری دیدار کے لیے جانے کا شرعی حکم(107393-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! دوران عدت اگر بیٹے کا انتقال ہوجائے تو ماں اپنے بیٹے کا آخری دیدار دوا خانہ میں جاکر کر سکتی ہے؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر بیٹے کی میت ماں کی عدت گزارنے کی جگہ پر، ان کے پاس نہیں لائی جاسکتی ہو، اور ماں کی طبعیت بہت ہی زیادہ بے چین ہو اور کسی طرح بھی دل کو قرار نہ آتا ہو، تو ضرورت کے درجہ میں دن کی روشنی میں، رات کی تاریکی سے پہلے پہلے بیٹے کے آخری دیدار کے لیے جانے کی گنجائش ہے، البتہ اس میں حد درجہ کوشش کی جائے کہ آخری دیدار کرکے وہاں کم سے کم وقت گزارا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر المختار وردالمحتار :

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه۔

(ج : 3، ص : 536، ط : دارالفکر)

کذا فی بدائع الصنائع :

فالإحداد في اللغة عبارة عن الامتناع من الزينة، يقال: أحدت على زوجها وحدت أي امتنعت من الزينة وهو أن تجتنب الطيب ولبس المطيب والمعصفر والمزعفر، وتجتنب الدهن والكحل ولا تختضب ولا تمتشط ولا تلبس حليا ولا تتشوف.

( ج:3، ص: 208، ط:دارالکتب العلمیہ بیروت )

کذا فی فتاوی قاسمیہ:

(ج:16، ص: 599، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)

کذا فیہ ایضا:

(ج:16، ص: 605، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)

کذا فی کتاب الفتاوی، ج : 5، ص : 144، ط : زمزم پبلشرز

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 313

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.