عنوان: معتکف کا آن لائن پڑھانا(107401-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا عورت اعتکاف میں بیٹھ کر نویں دسویں کلاس کے بچوں اور بچیوں کی آن لائن کلاس لے سکتی ہے؟

جواب: اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر طرف سے یکسو اور سب سے ہر قسم کا تعلق ختم کر کے بس اللہ تعالیٰ سے لو لگا کے مسجد کی کسی جگہ پر بیٹھ جائے، اور سب سے الگ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کے ذکر و فکر میں مشغول رہے، اس لیے معتکف کے لیے ضروری ہے کہ ہر اس کام سے اجتناب کرے جس سے اعتکاف کا مقصد فوت ہوتا ہو۔

حالت اعتکاف میں دنیاوی تعلیم دینا یا اور کوئی ملازمت کا کام کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر معتکفہ کو ملازمت سے رخصت نہیں مل رہی ہو، اور اس کا گزر بسر صرف اس تدریس کے کام پر ہو، تو پھر احکامِ ستر و حجاب کی مکمل پابندی کرتے ہوئے اس کے لئے پڑھانے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالیٰ:

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ۔

(رقم الآیة:32، سورۃ الاحزاب)

و قال ایضا:

وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُْعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ۔

(رقم الآیۃ:31، سواۃالنور)

کذا فی الفتاوى العالمگیریہ:

ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي۔

(ج: 5، ص: 321، ط: مکتبہ رشیدیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 445

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.