عنوان: پلاٹوں پر زکوٰۃ کا حکم(107417-No)

سوال: مفتی صاحب! درج ذیل پلاٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں راہنمائی فرمائیں: میری نیت یہ تھی کہ پلاٹ بچت کے طور پر خرید لیتا ہوں، اور اگر کبھی ضرورت پڑی تو فرخت کردوں گا۔ 1۔پلاٹ قسطوں پر ہے، پلاٹ کی جگہ اور نمبر ابھی تک نہیں ملا۔ 2۔ زمین کی قیمت ادا کردی ہے، ڈیولپمنٹ چارجز ادا نہیں کئے، جگہ اور نمبر ابھی تک نہیں ملا۔ 3۔قسطیں ادا ہوچکی ہیں، متوقع نمبر جاری ہوگیا ہے، جبکہ جگہ کی تعیین نہیں ہوئی۔ براہ کرم وضاحت فرمادیں کہ ان میں سے کس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ اگر مکان، زمین یا پلاٹ خالص تجارت کی نیت سے خریدا ہو، تو مال تجارت ہونے کی وجہ سے اس کی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ آپ نے کوئی بھی پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا ہے، اس لئے ان کی مالیت پر کوئی زکوٰۃ آپ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی رد المحتار:

ولا في ثیاب البدن وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوہا أي کثیاب البدن الغیر المحتاج إلیہا وکالحوانیت والعقارات۔

(ج: 2، ص: 264، ط: ایچ ایم سعید)

و فیہ ایضاً:

"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل"۔

(ج: 2، ص: 272، ط: ایچ ایم سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 187
pilot par zakat ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.