عنوان: معتکف کا نماز جمعہ کے لیے قریبی مسجد میں جانے اور نماز جمعہ کے لیے مسنون غسل کرنے کا شرعی حکم(107418-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت !ہماری مسلحہ مسجد میں کچھ ساتھی اعتکاف میں ہیں، مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے ان کو قریبی مسجد میں جانا ہو گا، ان کو باہر نکلتے ہوئے کن کن چیزوں کی احتیاط رکھنی ہے؟ اور دوسرا مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ ہماری مسجد میں ایک ہی باتھ روم ہے، جو اٹیچ ہے، جو کہ مسجد کی حدود سے الگ ہے، کیا وہ اپنے اپنے گھر بغیر کسی سے بات کرے غسل کرکے مسجد میں واپس آسکتے ہیں؟ کیا شریعت میں اس کی گنجایش ہے؟ یہ واضح کر دوں کہ مسجد گراؤنڈ فلور پر ہے، اور ساتھی پہلی، دوسری اور تیسری منزل پر ہی رہتے ہیں، یہ بتانے کا مقاصد یہی ہے کہ ان کو کہیں باہر نکلنے کی ضرورت پیش نہیں ہے۔

جواب: 1) معتکف کی مسجد میں اگر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ہے، تو اس کو جامع مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لیے جانے کی اجازت ہے، البتہ راستے میں آنکھوں کی حفاظت کرتے ہوئے، ذکر واذکار میں خود کو مشغول  رکھیں۔

واضح رہے کہ جامع مسجد اتنی دیر پہلے جانا چاہیے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں دورکعت نفل تحیۃالمسجد اور چار رکعت سنت اطمینان سے پڑھ لے، اس کا اندازہ گھڑی دیکھ کر کرسکتا ہے، پھر جمعہ کے فرضوں کے بعد چھ رکعت سنتیں اور نفل پڑھ کر اپنی اعتکاف والی مسجد میں آجانا چاہیے۔

2) رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف میں معتکف کے لیے واجب غسل کے علاوہ جمعہ کے مسنون غسل کے لیے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، اگر نکلے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اور ایک دن اور ایک رات اعتکاف کی قضا روزے کے ساتھ کرنا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی مؤطا امام مالک :

ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻳﺤﻴﻰ، ﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺃﻧﻪ ﺑﻠﻐﻪ، ﺃﻥ اﻟﻘﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻧﺎﻓﻌﺎ ﻣﻮﻟﻰ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻻ: " ﻻ اﻋﺘﻜﺎﻑ ﺇﻻ ﺑﺼﻴﺎﻡ ﺑﻘﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺗﺒﺎﺭﻙ ﻭﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺑﻪ {ﻭﻛﻠﻮا ﻭاﺷﺮﺑﻮا ﺣﺘﻰ ﻳﺘﺒﻴﻦ ﻟﻜﻢ اﻟﺨﻴﻂ اﻷﺑﻴﺾ ﻣﻦ اﻟﺨﻴﻂ اﻷﺳﻮﺩ ﻣﻦ اﻟﻔﺠﺮ، ﺛﻢ ﺃﺗﻤﻮا اﻟﺼﻴﺎﻡ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻴﻞ. ﻭﻻ ﺗﺒﺎﺷﺮﻭﻫﻦ ﻭﺃﻧﺘﻢ ﻋﺎﻛﻔﻮﻥ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ} [ اﻟﺒﻘﺮﺓ: 187]
ﻓﺈﻧﻤﺎ ﺫﻛﺮ اﻟﻠﻪ اﻻﻋﺘﻜﺎﻑ ﻣﻊ اﻟﺼﻴﺎﻡ " ﻗﺎﻝ ﻣﺎﻟﻚ: «ﻭﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ اﻷﻣﺮ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺃﻧﻪ ﻻ اﻋﺘﻜﺎﻑ ﺇﻻ ﺑﺼﻴﺎﻡ۔

(کتاب الاعتکاف، ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ اﻻﻋﺘﻜﺎﻑ ﺇﻻ ﺑﻪ، رقم الحدیث : 4، ط : دار احیاء التراث العربی بیروت)

وکذا فی مؤطا امام مالک :

ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻳﺤﻴﻰ، ﻋﻦ ﺯﻳﺎﺩ، ﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ، ﺃﻧﻪ «ﺭﺃﻯ ﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺇﺫا اﻋﺘﻜﻔﻮا اﻟﻌﺸﺮ اﻷﻭاﺧﺮ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ. ﻻ ﻳﺮﺟﻌﻮﻥ ﺇﻟﻰ ﺃﻫﺎﻟﻴﻬﻢ ﺣﺘﻰ ﻳﺸﻬﺪﻭا اﻟﻔﻄﺮ ﻣﻊ اﻟﻨﺎﺱ» ، ﻗﺎﻝ ﺯﻳﺎﺩ: ﻗﺎﻝ ﻣﺎﻟﻚ: «ﻭﺑﻠﻐﻨﻲ ﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻔﻀﻞ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻀﻮا ﻭﻫﺬا ﺃﺣﺐ ﻣﺎ ﺳﻤﻌﺖ ﺇﻟﻲ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ»۔

(کتاب الاعتکاف، ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ اﻻﻋﺘﻜﺎﻑ ﺇﻻ ﺑﻪ، رقم الحدیث : 6، ط : دار احیاء التراث العربی بیروت)

کذا فی الدر المختار :

(ﻭﺣﺮﻡ ﻋﻠﻴﻪ) ﺃﻱ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻌﺘﻜﻒ اﻋﺘﻜﺎﻓﺎ ﻭاﺟﺒﺎ ﺃﻣﺎ اﻟﻨﻔﻞ ﻓﻠﻪ اﻟﺨﺮﻭﺝ؛ ﻷﻧﻪ ﻣﻨﻪ ﻻ ﻣﺒﻄﻞ ﻛﻤﺎ ﻣﺮ (اﻟﺨﺮﻭﺝ ﺇﻻ ﻟﺤﺎﺟﺔ اﻹﻧﺴﺎﻥ) ﻃﺒﻴﻌﻴﺔ ﻛﺒﻮﻝ ﻭﻏﺎﺋﻂ ﻭﻏﺴﻞ ﻟﻮ اﺣﺘﻠﻢ ﻭﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻻﻏﺘﺴﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻨﻬﺮ۔ (ﺃﻭ) ﺷﺮﻋﻴﺔ ﻛﻌﻴﺪ ﻭﺃﺫاﻥ ﻟﻮ ﻣﺆﺫﻧﺎ ﻭﺑﺎﺏ اﻟﻤﻨﺎﺭﺓ ﺧﺎﺭﺝ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻭ (اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭﻗﺖ ﻭﻗﺖ اﻟﺰﻭاﻝ ﻭﻣﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﻨﺰﻟﻪ) ﺃﻱ ﻣﻌﺘﻜﻔﻪ (ﺧﺮﺝ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ ﻳﺪﺭﻛﻬﺎ) ﻣﻊ ﺳﻨﺘﻬﺎ ﻳﺤﻜﻢ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﺭﺃﻳﻪ، ﻭﻳﺴﺘﻦ ﺑﻌﺪﻫﺎ ﺃﺭﺑﻌﺎ ﺃﻭ ﺳﺘﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺨﻼﻑ، ﻭﻟﻮ ﻣﻜﺚ ﺃﻛﺜﺮ ﻟﻢ ﻳﻔﺴﺪ ﻷﻧﻪ ﻣﺤﻞ ﻟﻪ ﻭﻛﺮﻩ ﺗﻨﺰﻳﻬﺎ ﻟﻤﺨﺎﻟﻔﺔ ﻣﺎ اﻟﺘﺰﻣﻪ ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺓ۔

(ج : 2، ص : 445، ط : دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 163

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com