عنوان: اپنے غریب بیٹے اور نواسی کو صدقات واجبہ (صدقہ فطر اور فدیہ)  دینے کا شرعی حکم(107439-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت !کیا والدہ اپنے مستحق بیٹے کو جو علیحدہ کھاتا اور رھتا ہو اسے صدقہ فطر اور فدیہ دے سکتی ہیں؟ اسی طرح کیا نانی اپنی نواسیوں کو جن کے ماں اور باپ نہ ہو اور وہ نانی کی ہی زیر کفالت ہوں، کیا انہیں صدقہ فطر اور فدیہ دے سکتی ہیں؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرما دیجیے گا۔ شکریہ

جواب: واضح رہے کہ زکوۃ ادا کرنے والا زکوۃ اور صدقات واجبہ (صدقہ فطر اور فدیہ وغیرہ) اپنے اصول (والدین، دادا،دادی، نانا، نانی وغیرہ)، فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی، وغیرہ) اور شوہر یا بیوی کو نہیں دے سکتا، اس کے علاوہ اگر کوئی رشتہ دار غیر سید مستحقِ زکوة ہو، تو اس کو صدقۃ الفطر،فدیہ اور زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ سبحانہ وتعالی :

ﺇﻧﻤﺎ اﻟﺼﺪﻗﺎﺕ ﻟﻠﻔﻘﺮاء ﻭاﻟﻤﺴﺎﻛﻴﻦ ﻭاﻟﻌﺎﻣﻠﻴﻦ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭاﻟﻤﺆﻟﻔﺔ ﻗﻠﻮﺑﻬﻢ ﻭﻓﻲ اﻟﺮﻗﺎﺏ ﻭاﻟﻐﺎﺭﻣﻴﻦ ﻭﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ ﻭاﺑﻦ اﻟﺴﺒﻴﻞ ﻓﺮﻳﻀﺔ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﻭاﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻢ ﺣﻜﻴﻢ۔
[ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺘﻮﺑﺔ (9): ﺁﻳﺔ 60]

کذا فی الدر المختار وردالمحتار :

(ﻭﻻ) ﺇﻟﻰ (ﻣﻦ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻭﻻﺩ) ﻭﻟﻮ ﻣﻤﻠﻮﻛﺎ ﻟﻔﻘﻴﺮ (ﺃﻭ) ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ (ﺯﻭﺟﻴﺔ) ﻭﻟﻮ ﻣﺒﺎﻧﺔ ﻭﻗﺎﻻ ﺗﺪﻓﻊ ﻫﻲ ﻟﺰﻭﺟﻬﺎ.

ﻗﻮﻟﻪ: (ﻭﺇﻟﻰ ﻣﻦ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻭﻻﺩ) : ﺃﻱ ﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﻤﺪﻓﻮﻉ ﺇﻟﻴﻪ؛ ﻷﻥ ﻣﻨﺎﻓﻊ اﻷﻣﻼﻙ ﺑﻴﻨﻬﻢ ﻣﺘﺼﻠﺔ، ﻓﻼ ﻳﺘﺤﻘﻖ اﻟﺘﻤﻠﻴﻚ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻤﺎﻝ، ﻫﺪاﻳﺔ۔

(ج : 2، ص : 346، ط : دارالفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 185

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sadqa-tul-Fitr (Eid Charity)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com