عنوان: دل میں نور کیسے پیدا ہو؟ اس کے لیے وظیفہ اور دعا(107450-No)

سوال: مفتی صاحب! دل میں بہت زیادہ نور پیدا کرنے کا وظیفہ اور اس کے پڑھنے کا طریقہ بتادیں۔

جواب: حضرت ابو ھریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ کو چھوڑ دے، استغفار اور توبہ کر لے تو اس کا دل صاف شفاف ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ توبہ واستغفار نہ کرے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرے، تو اس کے دل کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے (جو کہ گناہوں کی کثرت کی وجہ سے بڑھتے بڑھتے) یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ سیاہی پورے دل پر چھا جاتی ہے، چنانچہ یہی وہ زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: "كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَا كَانُوا يَكْسِبُون"
(ہرگز نہیں ! بلکہ جو عمل یہ کرتے رہے ہیں اس نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے)۔

(صحیح ابن حبان: ٣/ ٢١٠ (٩٣٠) باب الأدعية.وأخرجه في ٧/ ٢٧ (٢٧٨٧) باب صلاة الجمعة)

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ انسان کے دل کو تاریک بلکہ زنگ آلود کر دیتے ہیں، لہذا دل میں نور تب پیدا ہو سکتا ہے، جب شریعت کے تمام احکامات کی پابندی اور گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تلاوت، ذکر الٰہی، درود شریف کی کثرت اور تہجد کی نماز کو نورانی دل بنانے میں خاص دخل ہے، دل میں نور پیدا کرنے کا یہی وظیفہ ہے جو اوپر بیان ہوا، اس وظیفے کو جتنا زیادہ اہتمام سے کیا جائے گا، دل میں نور دن بدن بڑھتا چلا جائے گا۔
نیز اس کے ساتھ ساتھ اگر درج ذیل دعا کا بھی اہتمام کیا جائے، تو فائدہ دو چند ہو جائے گا۔

جب فجر کی نماز پڑھنے کے لیے جائیں، تو یہ دعا پڑھیں:

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًاً وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظِّمْ لِي نُورًا.

ترجمہ:

اے اللہ ! میرے دل میں نور کر دے، میری آنکھوں میں نور کر دے، میری سماعت میں نور کردے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے سامنے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لئے نور کو بڑھا دے۔

(صحيح مسلم، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل و قیامہ، رقم الحديث 1788)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی صحیح ابن حبان:

أَخْبَرَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بمصر، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيْسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ القَعْقَاعِ بْنِ حَكِيْمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ أنَّهُ قَالَ: «إنَّ الْعَبْدَ إذَا أخْطَأ خَطِيْئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ، فَإنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ صُقِلَتْ، فَإنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا، فَإنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَكَرَ اللهُ «كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ». المطففين".

(صحیح ابن حبان: ٣/ ٢١٠ (٩٣٠)باب الأدعية.وأخرجه في ٧/ ٢٧ (٢٧٨٧)باب صلاة الجمعة)

وفی الصحیح لمسلم:

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًاً وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظِّمْ لِي نُورًا.

(صحيح مسلم، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل و قیامہ، رقم الحديث 1788)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 395
dil mai noor kese paida ho? is kay liye wazeefay or dua

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.