عنوان: عدت کے دوران گھر سے نکلنے کے گناہ پر تلافی کیسے کریں؟(107459-No)

سوال: مفتی صاحب! ایک عورت عدت کے دوران لاہور سے اسلام آباد کسی کی تعزیت کے لیے چلی گئی، وہاں کچھ دن گزارنے کے بعد واپس آگئی، اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ عدت کے دوران باہر نہیں جانا چاہیے۔اب کیا اس عورت پر کیا کفارہ ہوگا اور کیا اس کو دوبارہ عدت گزارنی ہوگی؟

جواب: عورت کے لیے عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں عورت گنہگار ہوگی، البتہ اس عورت پر نہ کفارہ لازم ہے اور نہ ہی از سر نو عدت گزارنا لازم ہے، بلکہ صرف توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:

لَا تُخۡرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخۡرُجۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بفاحشۃ مُّبَیِّنَۃٍ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ

(سورۃ الطلاق، آیت نمبر:1)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 315

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com