عنوان: قبر پر سجدہ تعظیمی کرنے کا حکم(107484-No)

سوال: میرے ایک قریبی رشتہ دار ہیں، جو ایک بزرگ کے مزار پر جاکر ان کی قبر پر سجدہ کرتے ہیں، میں نے انہیں منع کیا، تو کہنے لگے کہ میں قبر پر اس بزرگ کی تعظیم کی خاطر جھکتا ہوں اور سجدہ کرتا ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس سے کافر ہوگئے اور کیا ان کا نکاح ٹوٹ گیا؟

جواب: واضح رہے کہ کسی کے آگے سجدہ تعظیمی کرنا قطعاََ حرام ہے، حضور اکرم ﷺ نے قبر پر سجدہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اس لئے سجدہ کرنے کی وجہ سے آپ کے رشتہ دار گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوے ہیں، ان کو اس قبیح فعل پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ اس سے اجتناب کرنا شرعاََ لازم ہے، البتہ وہ اس سجدہ تعظیمی کرنے کی وجہ سے کافر نہیں ہوں گے اور ان کا نکاح بر قرار رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الصحیح للبخاری:

عن عائشۃ رضی اللہ عنھاعن النبی ﷺ قال فی مرضہ الذی مات فیہ لعن اللہ الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجد۔

(ج: 1، ص: 177)

وفی الشامیۃ:

وکذا مایفعلونہ من تقبیل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن وھل یکفر ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وان علی وجہ التحیۃ لا وصار آثما مرتکبا للکبیرۃ، وفی الملتقط التواضع لغیر اللہ حرام۔

(ج: 6، ص: 383، ط: دار الفکر)

وفی الہندیۃ:

التواضع لغیراللہ حرام کذا فی الملتقط من سجد للسطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لایکفر و لکن یاثم لارتکابہ الکبیرۃ ھو المختار۔

(ج: 5، ص: 348، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

اذا سجد لانسان سجدۃ تحیۃ لا یکفر کذا فی السراجیۃ۔

(ج: 2، ص: 279، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 112

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com