عنوان: حکومت کا ڈیم فنڈ پر جبرا ٹیکس لینا(100075-No)

سوال: حکومت کا ڈیم فنڈ لینا کیسا ہے؟

جواب: 1) کسی بھی مملکت اور ریاست کو ملکی انتظامی امور چلانے کے لیے مستحقین کی امداد، سڑکوں، پلوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر، بڑی نہروں کا انتظام، سرحد کی حفاظت کا انتظام ، فوجیوں اور سرکاری ملازمین کو مشاہرہ دینے کے لیےاور دیگر ہمہ جہت جائز اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہےاوران وسائل کو پورا کرنے کے لیےنبی کریمﷺ، خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مبارک عہد اور ان کے بعد کے روشن دور میں بیت المال کا ایک مربوط نظام قائم تھا اور اس میں مختلف قسم کے اموال جمع کیے جاتے تھے،مثلاً:

1۔ ’’خمسِ غنائم‘‘ یعنی جو مال کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہو، اس کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بعد باقی پانچواں حصہ۔

2۔ مالِ ِ فییٔ یعنی وہ مال جو بغیر کسی مسلح جدو جہد کے حاصل ہو۔

3۔ ’’خمسِ معادن‘‘یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں سے پانچواں حصہ۔

4۔ ’’خمسِ رکاز ‘‘  یعنی جو قدیم خزانہ کسی زمین سے برآمد ہو، اس کا بھی پانچواں حصہ۔

5۔ غیر مسلموں کی زمینوں سے حاصل شدہ خراج اور ان کا جزیہ اور ان سے حاصل شدہ تجارتی ٹیکس اور وہ اموال جو غیر مسلموں سے ان کی رضامندی کے ساتھ مصالحانہ طور پر حاصل ہوں۔

6۔ ’’ضوائع‘‘  یعنی لا وارث مال ، لاوارث شخص کی میراث وغیرہ۔

لیکن آج کے دور میں جب کہ یہ اسباب و وسائل  ناپید ہوگئے ہیں تو ان ضروریات اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیےٹیکس کا نظام قائم کیا گیا، کیوں کہ اگر حکومت ٹیکس نہ لے تو فلاحی مملکت کا سارا نظام خطرہ میں پڑ جائے گا، البتہ اس میں شک نہیں کہ مروجہ ٹیکس کے نظام میں کئی خرابیاں ہیں، سب سے اہم یہ ہے کہ ٹیکس کی شرح بعض مرتبہ نامنصفانہ، بلکہ ظالمانہ ہوتی ہے اور یہ کہ وصولی کے بعد بے جا اسراف اور غیر مصرف میں ٹیکس کو خرچ کیا جاتا ہے، لیکن بہرحال ٹیکس کے بہت سے جائز مصارف بھی ہیں، اس لیے امورِ مملکت کو چلانے کی خاطر حکومت کے لیے بقدرِ ضرورت اور رعایا کی حیثیت کو مدِّ نظر رکھ کر ٹیکس لینے کی گنجائش نکلتی ہے۔

  اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر حکومت ڈیم کی تعمیر دیگر ذرائعِ آمدنی سے پوری نہیں کرسکتی تو چند شرائط کے ساتھ حکومت کو ڈیم کی تعمیر کے لیے ٹیکس لینےکی اجازت ہوگی:

1۔ بقدرِ ضرورت ہی ٹیکس لگایا جائے۔

2 ۔لوگوں کے لیے قابلِ برداشت ہو۔

3۔وصولی کا طریقہ مناسب ہو۔

4۔ ٹیکس کی رقم کو ملک و ملت کی واقعی ضرورتوں اور مصلحتوں پر صرف کیاجائے۔ 

جس ٹیکس میں مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ نہ کیا جاتا ہو تو حکومت کے لیے ایسا ٹیکس لینا جائز نہیں اور ایسا ٹیکس لینے والوں کے متعلق احادیث میں وعید آئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الانفال، الایۃ: 1)
يسئلونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول فاتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم وأطيعوا الله ورسوله إن كنتم مؤمنينo

تفسیر القرطبی: (360/7)
روى عبادة بن الصامت قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر فلقوا العدو، فلما هزمهم الله اتبعتهم طائفة من المسلمين يقتلونهم، وأحدقت طائفة برسول الله صلى الله عليه وسلم، واستولت طائفة على العسكر والنهب، فلما نفى الله العدو ورجع الذين طلبوهم قالوا: لنا النفل، نحن الذين طلبنا العدو وبنا نفاهم الله وهزمهم. وقال الذين أحدقوا برسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أنتم أحق به منا، بل هو لنا، نحن أحدقنا برسول الله صلى الله عليه وسلم لئلا ينال العدو منه غرة. وقال الذين استلووا على العسكر والنهب: ما أنتم بأحق منا، هو لنا، نحن حويناه واستولينا عليه، فأنزل الله عز وجل: (يسئلونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول فاتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم وأطيعوا الله ورسوله إن كنتم مؤمنين). فقسمه رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فواق بينهم.

بدائع الصنائع: (69/2، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما ما يوضع في بيت المال من الأموال فأربعة أنواع: أحدها زكاة السوائم، والعشور وما أخذه العشار من تجار المسلمين إذا مروا عليهم، والثاني خمس الغنائم، والمعادن، والركاز، والثالث خراج الأراضي وجزية الرءوس وما صولح عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة وما أخذه العشار من تجار أهل الذمة والمستأمنين من أهل الحرب، والرابع ما أخذ من تركة الميت الذي مات ولم يترك وارثا أصلا، أو ترك زوجا، أو زوجة.

رد المحتار: (337/2، ط: دار الفکر)
وقال أبو جعفر البلخي ما يضر به السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينا واجبا وحقا مستحقا كالخراج، وقال مشايخنا وكل ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا حتى أجرة الحراسين لحفظ الطريق واللصوص ونصب الدروب وأبواب السكك وهذا يعرف ولا يعرف خوف الفتنة ثم قال: فعلى هذا ما يؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض ونحوه من مصالح العامة دين واجب لا يجوز الامتناع عنه، وليس بظلم ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به وكف اللسان عن السلطان وسعاته فيه لا للتشهير حتى لا يتجاسروا في الزيادة على القدر المستحق اه.
قلت: وينبغي تقييد ذلك بما إذا لم يوجد في بيت المال ما يكفي لذلك لما سيأتي في الجهاد من أنه يكره الجعل إن وجد فيء

اسلام اور سیاسی نظریات: (ص: 297- 304)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 246
hukoomat/hokoomat ka dam fund par jabran tax lena/lay na , can the government collect tax for the dam fund by force?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.