عنوان: کام سیکھنے والے کو مالک کی طرف سے اجرت دینے کا شرعی حکم(107573-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر کوئی بندہ کسی کے پاس کام سیکھتا ہو تو اس کی مزدوری اس بندے کو دینی چاہیے یا نہیں؟

جواب: اگر مزدور اور مالک کے درمیان آپس کی رضامندی سے اجرت طے ہوگئی ہو، تو مزدور کو اس کی اجرت دینا مالک کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر باقاعدہ کوئی اجرت طے نہ ہوئی ہو، اور مالک خود سے اسے کچھ رقم دیتا ہو، تو یہ مالک کی طرف سے تبرع اور احسان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی صحیح البخاری :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻢ، ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﻣﻴﺔ، ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: ﺛﻼﺛﺔ ﺃﻧﺎ ﺧﺼﻤﻬﻢ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ، ﺭﺟﻞ ﺃﻋﻄﻰ ﺑﻲ ﺛﻢ ﻏﺪﺭ، ﻭﺭﺟﻞ ﺑﺎﻉ ﺣﺮا ﻓﺄﻛﻞ ﺛﻤﻨﻪ، ﻭﺭﺟﻞ اﺳﺘﺄﺟﺮ ﺃﺟﻴﺮا ﻓﺎﺳﺘﻮﻓﻰ ﻣﻨﻪ ﻭﻟﻢ ﻳﻌﻄﻪ ﺃﺟﺮﻩ۔

(باب اثم من منع اجر الاجیر، رقم الحدیث : 2270، ط : دار طوق النجاۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 179
kaam sikhanay waly ko maalik ki taraf se ujrat dene ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.