عنوان: بوگو ڈسکاؤنٹ واؤچر کا حکم(759-No)

سوال: السلام علیکم،
بوگو کمپنی ایک کتاب فروخت کرتی ہے، جس میں ریسٹورنٹ اور دیگر سروسز كے buy one get one free كے واؤچرز ہوتے ہیں،
مثال کے طور پر اس بُک میں سے ایک واؤچر نکال کر میں subway ریسٹورنٹ جاؤں اور ایک سینڈوچ خریدوں تو وه واؤچر كیوجہ سے مجھے ایک فری سینڈوچ دیں گے، کیا یہ بُک استعمال کرنا مناسب ہے ؟
اِس بُک کی میعاد ایک سال کی ہوتی ہے، اگر سال كے آخر تک کوئی واؤچر استعمال کرنے سے رہ جائے تو وه ضائع ہوجاتا ہے۔

جواب: واضح رہے کہ بوگو ڈسکاؤنٹ واؤچر میں مندرجہ ذیل مفاسد پائے جانے کی وجہ سے فائدہ اٹھانا اور اس کو استعمال کرنا ناجائز ہے:
1۔اس میں ایک عقد کو مستقبل میں ہونے والے دوسرے عقد کے ساتھ مشروط کیا جارہا ہے، جبکہ شریعت میں ایک معاملے کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا ناجائز ہے۔
2۔اس عقد میں دھوکا ہے، کیونکہ ایک سال کے دوران گاہک نے اس کوپن کو استعمال کرکے مخصوص خریداری کی تو اس کو دی ہوئی رقم کے عوض اسے مخصوص اضافی چیز یا Services مل جائینگی، لیکن اگر ایک سال کے دوران کوپن استعمال نہیں کیا تو اضافی چیز یا Services نہیں ملیں گی اور اس کی دی ہوئی رقم ضائع ہوجائے گی۔
3۔اس میں مستقبل میں مخصوص شرائط کے ساتھ کسی چیز کو فروخت کرنے یا مفت میں دینے کا وعدہ اور التزام کیا جا رہا ہے، یہاں تک تو بات ٹھیک ہے، لیکن اس التزام اور وعدے کے بدلے میں پیسے لیےجارہے ہیں، جو کہ نا جائز ہے۔
لہٰذا ان مفاسد کے پائے جانے کی وجہ سے اس واؤچر کو خریدنا اور اسے استعمال کرنا ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1513، ط: داراحیاء التراث العربی)
عن الأعرج، عن أبي هريرة، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة، وعن بيع الغرر»

اعلاء السنن: (146/14، ط: ادارة القرآن و العلوم الاسلامیة)
عن عمرو بن شعیب، عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم : انہ نھی عن بیع وشرط۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 495
Bogo discount voucher ka hukum, Ruling for Bogo Discount Voucher

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.