عنوان: زکوٰۃ میں مال تجارت سے کیا مراد ہے؟ اور مال تجارت پر زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے؟(107603-No)

سوال: زکوٰۃ میں مال تجارت سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا بھی کوئی نصاب ہے؟ میں کیبن چلاتا ہوں جس میں بچوں کی کھانے کی چیزیں فروخت کرتا ہوں،کیا مجھے بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟

جواب: مال تجارت سے مراد وہ سامان ہے، جسے تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو، اور تا حال یہ نیت بر قرار ہو، لہٰذا اگر کوئی چیز ابتداءً تجارت کی نیت سے خریدی گئی تھی، لیکن اب فروخت کرنے نیت ترک کردی گئی ہو، تو وہ مال تجارت شمار نہیں ہوگا، اسی طرح اگر کوئی چیز ابتداءً تجارت کی نیت سے نہیں خریدی گئی تھی، لیکن اب فروخت کرنے کا ارادہ بن گیا ہے، تب بھی فقط تجارت کی نیت کرنے سے یہ چیز مالِ تجارت شمار نہیں ہوگی۔

مال تجارت پر زکوٰۃ فرض ہونے کی دو شرائط ہیں:

1۔ مال تجارت کی کل مالیت زکوٰۃ کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کو پہنچے، یاد رہے کہ اگر کسی کے پاس سونا، چاندی اور رقم ہے تو اسکی مالیت بھی اسکے مال تجارت میں شامل کی جائے گی۔

2۔ اس مالیت پر سال گزرے، اور سال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس تاریخ کو آدمی صاحب نصاب ہوا ہو، اگر اگلے سال اسی تاریخ کو وہ صاحب نصاب ہے، (چاہے سال بھر میں اسکا مال کم زیادہ ہوتا رہا ہو) تو بھی اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر آپ کے کل مال تجارت کی مالیت خود یا دوسرے اموال کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت تک پہنچ رہی ہے، اور اس پر سال بھی گزرچکا ہے، تو آپ پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی بدائع الصنائع:

ﻭﺃﻣﺎ ﺃﻣﻮاﻝ اﻟﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻓﺘﻘﺪﻳﺮ اﻟﻨﺼﺎﺏ ﻓﻴﻬﺎ ﺑﻘﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﺪﻧﺎﻧﻴﺮ ﻭاﻟﺪﺭاﻫﻢ، ﻓﻼ ﺷﻲء ﻓﻴﻬﺎ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺗﺒﻠﻎ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﻲ ﺩﺭﻫﻢ ﺃﻭ ﻋﺸﺮﻳﻦ ﻣﺜﻘﺎﻻ ﻣﻦ ﺫﻫﺐ، ﻓﺘﺠﺐ ﻓﻴﻬﺎ اﻟﺰﻛﺎﺓ، ﻭﻫﺬا ﻗﻮﻝ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء۔
ﻭ ﻟﻨﺎ: ﻣﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﺳﻤﺮﺓ ﺑﻦ ﺟﻨﺪﺏ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: "ﻛﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻳﺄﻣﺮﻧﺎ ﺑﺈﺧﺮاﺝ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻣﻦ اﻟﺮﻗﻴﻖ اﻟﺬﻱ ﻛﻨﺎ ﻧﻌﺪﻩ ﻟﻠﺒﻴﻊ"۔
ﻭﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺫﺭ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: "ﻓﻲ اﻟﺒﺮ ﺻﺪﻗﺔ" ، ﻭﻗﺎﻝ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ -: "ﻫﺎﺗﻮا ﺭﺑﻊ ﻋﺸﺮ ﺃﻣﻮاﻟﻜﻢ"
ﻓﺈﻥ ﻗﻴﻞ: اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﺭﺩ ﻓﻲ ﻧﺼﺎﺏ اﻟﺪﺭاﻫﻢ؛ ﻷﻧﻪ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ ﺁﺧﺮﻩ: " ﻣﻦ ﻛﻞ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﺩﺭﻫﻤﺎ ﺩﺭﻫﻢ "۔
ﻓﺎﻟﺠﻮاﺏ ﺃﻥ ﺃﻭﻝ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﺎﻡ ﻭﺧﺼﻮﺹ ﺁﺧﺮﻩ ﻳﻮﺟﺐ ﺳﻠﺐ ﻋﻤﻮﻡ ﺃﻭﻟﻪ ﺃﻭ ﻧﺤﻤﻞ ﻗﻮﻟﻪ ﻣﻦ ﻛﻞ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﺩﺭﻫﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻴﻤﺔ ﺃﻱ: ﻣﻦ ﻛﻞ ﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﺩﺭﻫﻤﺎ ﻣﻦ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﺩﺭﻫﻢ.
ﻭ ﺃﻣﺎ ﺻﻔﺔ ﻫﺬا اﻟﻨﺼﺎﺏ ﻓﻬﻲ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﻌﺪا ﻟﻠﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻭ ﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﻤﺴﻜﻬﺎ ﻟﻠﺘﺠﺎﺭﺓ ﻭ ﺫﻟﻚ ﺑﻨﻴﺔ اﻟﺘﺠﺎﺭﺓ ﻣﻘﺎﺭﻧﺔ ﻟﻌﻤﻞ اﻟﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻘﺪﻡ، ﺑﺨﻼﻑ اﻟﺬﻫﺐ ﻭاﻟﻔﻀﺔ ﻓﺈﻧﻪ ﻻ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺇﻟﻰ ﻧﻴﺔ اﻟﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻷﻧﻬﺎ ﻣﻌﺪﺓ ﻟﻠﺘﺠﺎﺭﺓ ﺑﺄﺻﻞ اﻟﺨﻠﻘﺔ، ﻓﻼ ﺣﺎﺟﺔ ﺇﻟﻰ ﺇﻋﺪاﺩ اﻟﻌﺒﺪ، ﻭﻳﻮﺟﺪ اﻹﻋﺪاﺩ ﻣﻨﻪ ﺩﻻﻟﺔ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻣﺮ.

(ج: 2، ص:221-220، ط: دارالکتب العلمیة)

قال فی در المختار:

"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل"۔

(ج: 2، ص: 272، ط: ایچ ایم سعید)

کذا فی رد المحتار:

و شرط کمال النصاب … في طرفي الحول، فی الابتداء للانعقاد، و فی الانتھاء للوجوب، فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول ".

(باب: زکاة المال، ج:3، ص:233)

قال فی رد المحتار:

قولہ:”فلو ھلک کلہ“ أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً۔

(باب: زکاة المال، ج:3، ص:233)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 257
zakat mai maal e tijarat say kia murad hai? or maal e tijarat par zakat kab farz hoti hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.